مکئی کی فی ایکڑ بہتر پیداوارکے حصول کے لیے جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک کریں ، ماہرین زراعت کی کاشتکاروں کو سفارش

 فیصل آباد(آن لائن) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہر اگرانومی عباس علی گل نے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ مکئی کی فی ایکڑ بہتر پیداوارکے حصول کے لیے جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک کریں کیونکہ اگر جڑی بوٹیوں کی تلفی میں تاخیر ہوجائے تو پیداوار میں 15سے20فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔جڑی بوٹیاں فصل کے ساتھ خوراکی اجزاءہوا، پانی اور روشنی کے حصول میں حصہ دار بننے کے ساتھ دوسرے اہم کاشتی امور انجام دینے میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔مزیدبرآں یہ نقصان رساں کیڑوں کی آماجگاہ کے طور پر بھی کام کرتی ہیںاور ان کی موجودگی میں فصل کو نقصان رساں کیڑوں سے محفوظ رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کی وجہ سے نہ صرف فصل کا پیداواری خرچہ بڑھ جاتا ہے بلکہ یہ فصل کی کوالٹی کوخراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مکئی کی فصل میں ڈیلا، کھبل، مدھانہ جبکہ تکونے پتوں والی جڑی بوٹیوں میں چاندنی، دھودک، تاندلہ اور چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں میں اٹ سٹ، لہلی، کرنڈ، بھکڑ، ہزاردانی، کلفہ وغیرہ زیادہ تعداد میں اگتی ہیں جس سے فصل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے لہٰذا ان کی بروقت تلفی کےلئے فصل کی گوڈی کریں۔ گوڈی کی وجہ سے جڑی بوٹیاں مٹی میں دب جاتی ہیں اس طرح ان کی تلفی ممکن ہو جاتی ہے۔ وٹوں کے بغیر کاشتہ مکئی کی اچھی پیداوار لینے کےلئے ابتدائی مراحل میں دو تین گوڈیاں کریں دوسری یا تیسری گوڈی کے موقع پر کھیلیاں بنا دیں اور پودوں کے ساتھ مٹی چڑھا دیں تاکہ آندھی کی صورت میں فصل گرنے سے محفوظ رہے، گوڈی کے دوران پودے کی جڑوں کو متاثر نہ ہونے دیں۔ کھیلیوں پر کاشت کی گئی مکئی میں گوڈی نہ کریں بلکہ جڑی بوٹیوں کے تدارک کےلئے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔#/s#

Comments
Loading...