ختم نبوت سے متعلق راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

اسلام آباد: ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں ترمیم سے متعلق راجا ظفرالحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے اور الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے معاملے کی سماعت کی۔

اس موقع پر حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے راجا ظفرالحق رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایک روز کی استدعا کی جسے عدالت میں مسترد کرتے ہوئے ایک بجے تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جس کے بعد سربمہر رپورٹ پیش کردی گئی۔

راجا ظفرالحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ کا عکس
راجا ظفرالحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ

فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالت کے ساتھ عجیب کھیل کھیل رہے ہیں، میں کیوں نہ وزیراعظم کو طلب کروں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ وزیراعظم کا اس رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں،کیسے اس رپورٹ سے تعلق نہیں، ختم نبوت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، آپ کو اس ایشو کی نزاکت کا احساس ہی نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد عدالت نے سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل حافظ عرفات کو کل دلائل دینے کی ہدایت کی۔

جب کہ عدالت نے قرار دیا کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔

فیض آباد دھرنا

ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر مذہبی جماعت کی جانب سے نومبر 2017 میں 22 روز تک دھرنا دیا گیا جو بعدازاں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے اور ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا۔

دھرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیرسماعت ہے جب کہ عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ دھرنے کے خاتمے کے لئے کئے گئے معاہدے کی ایک شق بھی قانون کے مطابق نہیں اور جو معاہدہ ہوا اس کی قانونی حیثیت دیکھنی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ ‘زخمی میں ہوا ہوں ریاست کو کیا حق ہے میری جگہ راضی نامہ کرے ، جس پولیس کو مارا گیا کیا وہ ریاست کا حصہ نہیں، اسلام آباد پولیس کو 4 ماہ کی اضافی تنخواہ دینی چاہیے، پولیس کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو مقدمہ نہیں ختم ہونے دوں گا’۔

Comments
Loading...