((سپریم کورٹ شریفوں کی شہنشاہت میں رکاوٹ))ُ نوازشریف نے پارلیمنٹ کوعدلیہ کیخلاف استعمال کیاتوقوم کوسڑکوں پرنکلوں گا،عمران خان

نوازشریف اورن لیگ نے سپریم کورٹ پرحملہ کیا،ایک چیف جسٹس کوڈنڈوںسے بھگایااب عدلیہ کیخلاف پارلیمنٹ کواستعمال کررہے ہیں، شریف خاندان کوڈرہے کہ نیب عدالت سے ا ن کیخلاف فیصلہ آنےوالاہے

نواز شریف مسلسل عدلیہ کی توہین کر رہا ہے ،سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے ،خیبرپختونخواحکومت کاہیلی کاپٹر ایک منٹ بھی اپنی ذات کےلئے استعمال نہیں کیا،سینیٹ انتخابات میںہمارے 6امیدوارکامیاب ہوجائیںگے،پریس کانفرنس

پشاور(وقائع نگار)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے مکمل پاک کرنے کیلئے پختونخوا حکومت کے اقدام کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پختونخوا حکومت ادارے مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے، دوسری طرف ن لیگ دن رات انہی اداروں خصوصی طور پر عدلیہ کو نشانہ بنا رہی ہے، عدلیہ ملک میں شریف برادران کی شہنشاہیت کی راہ میں آخری رکاوٹ ہے ۔منگل کے روز پشاور میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہو ئے عمران خان نے کہا کہ پختونخوا حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے مکمل آزاد کرنے کیلئے اصلاحات کا منصوبہ تیا کر لیا ہے اور صوبے میں پولیس کی کارکردگی کی نگرانی کیلئے صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام کا منصوبہ حتمی مراحل میں ہے صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن مکمل طور پر خودمختار ہوگاکمیشن کی خودمختاری کیلئے چیئرمین اور اراکین کی تقرری سکروٹنی کمیٹی کرے گی سکروٹنی کمیٹی کی سربراہی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کرینگے کمیشن اپنے سربراہ سمیت اٹھارہ اراکین پرمشتمل ہوگاصوبائی اسمبلی سے چار اراکین کو کمیشن میں نمایندگی دی جاے گی کمیشن کیلئے چنے جانے والے اراکین میں سے دو حکومت اور دو حزب اختلاف سے لئے جائیں گے کمیشن میں آٹھ آزاد اراکین شامل ہونگے دیگر اراکین میں ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ جج ، ریٹائرڈ میجر جنرل، گریڈاکیس یا اس سے اوپر کا ایک سرکاری افسر کمیشن کا حصہ ہونگے گریڈ اکیس یا اس سے اوپر کا پولیس افسر اور سول سوسائٹی کے دو نمائندے بھی کمیشن میں شامل ہوں گے خواتین اور اقلیتوں کو بالترتیب ایک ایک رکن کے ذریعے کمیشن میں نمائندگی دی جائے گی صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کو ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی، ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن اور لوکل باڈیز اینڈ کریمنل جسٹس کوآرڈینیشن کمیٹی کی معاونت حاصل ہوگی صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن سال میں دو مرتبہ پولیس کی کارکردگی اور سالانہ منصوبے کا جائزہ لے گاکمیشن سنیئرپولیس افسران کے خلاف انکوائریز اور شکایت کی سماعت کرے گا´عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیا تو سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا ¾صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر ایک منٹ بھی اپنی ذات کے لئے استعمال نہیں کیا ¾خوف خدا ہے ¾اپنا ایک ایک روپیہ خرچ کرتا ہوں ¾جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو ان کے بچوں کےلئے کیا ہیلی کاپٹر ٹیکسی کی طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا؟۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 1997 میں نواز شریف اور (ن) لیگ نے سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا ¾ ایک چیف جسٹس کو ڈنڈوں سے بھگایا جبکہ پیسے دے کر انہوں نے ججز کو بھی خریدا لیکن اب عدلیہ کے خلاف پارلیمنٹ کو استعمال کیا جارہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ جتنا نواز شریف کو اپنی صفائی دینے کا موقع ملا اتنا کسی پاکستانی کو نہیں ملا، توہین عدالت پر بھی ان کے خلاف کچھ نہیں کیا جارہا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اور شیر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں 300 ارب روپے کے قطری خط کے علاوہ کوئی جواب نہیں دیا گیا جبکہ سپریم کورٹ انہیں بار بار موقع دے رہی ہے اور نواز شریف سے ایسے ٹریٹ کیا جیسے کسی پاکستانی کو نہیں کیا۔انہوںنے کہا کہ شریف خاندان کو ڈر ہے کہ نیب عدالت سے ان کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے ¾اگر پارلیمنٹ کو انہوں نے استعمال کیا تو اس بار پاکستان کی عدلیہ کے لئے لوگوں کو سڑکوں پر نکالوں گا۔عمران خان نے کہا کہ مختلف مقدمات میں مطلوب سابق پولیس افسر عابد باکسر آرہا اور وہ بتائے گا کہ شہباز شریف کے کہنے پر اس نے کتنے قتل کیے۔خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر ایک منٹ بھی اپنی ذات کے لئے استعمال نہیں کیا، کسی منصوبے پر جاتے تھے تو صرف اس وقت سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرتا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ سرکاری خرچے پر ٹھہرسکتا ہوں لیکن جب بھی نتھیا گلی ٹھہرا اپنے خرچے پر ٹھہرا اور آج بھی پرائیویٹ ہیلی کاپٹر پر اپنا پیسا خرچ کر کے پشاور آیا ہوں، خوف خدا ہے اس لیے اپنا ایک ایک روپیہ خرچ کرتا ہوں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اس قوم کے پیسے میں اپنے اوپر نہیں خرچ کرنا چاہتا، نیب یہ پتا کرائے کہ شریف خاندان کے لئے ہیلی کاپٹر کتنا استعمال ہوا، جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو ان کے بچوں کے لئے کیا ہیلی کاپٹر ٹیکسی کی طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔سینیٹ انتخابات پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہمارے 6 امیدوار کامیاب ہوجائیں گے تاہم اس انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ارکان کو پیسوں کی پیش کش کی جارہی ہے ¾ مجھے 40 کروڑ روپے کی آفر بھی ہوئی تاہم کارکنوں کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر کوئی ایم پی اے بکا تو ان کے گھروں پر حملہ بھی کرسکتے ہیں۔

عمران خان

Comments
Loading...