Official Web

کام کی جگہ پر بھی آرام ضروری ہے

صبح سے لے کر شام تک کے تھکا دینے والے اوقات کار میں کام کی جگہ پر کام کے دوران بے دھیانی مزید  پریشان کر دیتی ہیں تو اس پر عمل کر کے دیکھیے کیا معلوم کچھ افاقہ ہو جائے مگر آزمائش شرط ہے۔

آپ کیسے بہتر محسوس کر سکتے ہیں؟ اپنی معمول میں تبدیلی کر کے اور کچھ نئی چیزیں شامل کر کے آپ اپنی تھکا دینے والی زندگی میں فرق لا سکتے ہیں۔

غذائیت سے بھرپور ناشتے سے دن کا آغاز کریں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

اپنے مصروف دن کا آغاز غذائیت سے بھرپور ناشتے سے کریں جو آپ کا ساتھ دوپہر کے کھانے تک دے۔اس طرح سے نا صرف آپ کو کافی دیر تک توانائی ملتی رہے گی بلکہ شوگر اور کیفین کی طلب سے بھی دور رہیں گے۔

ناشتے میں پروٹین سے بھرپور آملیٹ سے لے کر فائبر سے بھرپور دلیے کا ایک پیالہ ناشتے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

جس طرح صبح کام پر جانے کے لیے لباس کی تیاری کی جاتی ہے اسی طرح ناشتے کو فوقیت دیتے ہوئے اس کی تیاری رات ہی میں کر لیں۔ اگر آپ صبح بہت زیادہ کھانا پسند نہیں کرتے تو پھر دہی کا ایک پیالہ کچھ پھلوں کے ساتھ یا کوئی ملک شیک ہی ناشتے میں لے لیں لیکن بھوکے پیٹ کام پر نا جائیں۔

کچھ کھانا ہی ہے تو ہلکا پھلکا کھائیں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

کھانے پینے کی میٹھی اشیاء شاید فوری توانائی دے سکتی ہیں لیکن اس سے بھوک ختم ہونے کے بجائے بڑھتی ہے اور آپ بے دھیانی میں کئی بسکٹ کھا جاتے ہیں۔ میٹھی اشیاء کو کبھی کبھار کھانے کے لیے رہنے دیں۔

کئی ایسی چیزیں بھی ہیں جو ذائقے میں تو اچھی ہیں ہی لیکن وہ آپ کے بلڈ شوگر کی سطح کو اوپر نیچے کیے بغیر توانائی پہنچاتی ہیں۔

آپ اپنے ساتھ کام کی جگہ پر کٹے ہوئے پھل لے کر جا سکتے ہیں۔ ان سے آپ کو ایک ساتھ قیمتی وٹامنز، معدنیات اور فائبر مل سکتے ہیں۔ جیسے کہ کیلے، کینو، موسمبی، سیب یا انناس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی موسمی پھل۔

دوپہر کا کھانا متوازی رکھیں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

دوپہر کے کھانے کے وقت کچھ بھی کھا لینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس وقت متوازن غذا کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے جو معدے پر بھاری نا پڑے۔

کینٹین یا بیکری وغیرہ سے ملنے والے پہلے سے تیار شدہ سینڈوچز، برگرز یا رول وغیرہ میں نمک، مٹھاس یا سیچوریٹیڈ فیٹ وافر مقدار میں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ان سے گریز ہی کرنا چاہیے۔

 بہتر ہے کہ دوپہر کے کھانے کے لیے گھر سے ساتھ میں کچھ لیتے آئیں۔ روٹی سالن یا چاول کے ساتھ ساتھ آپ پاستا، مختلف قسم کے سلاد، سینڈوچز اور رول وغیرہ اپنے لنچ باکس میں لا سکتے ہیں۔

کیفین کی خواہش پر قابو پائیں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

‘کیفین کی طلب اصل میں ہوتی ہے وقت گزارنے کا بہانہ’ یہ ایک الگ بحث ہے۔آفس میں کام کرتے ہوئے ایک کپ گرما گرم چائے یا کافی وقتی طور پر تھکن مٹانے کا صحیح طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم کیفین ہر شخص پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے۔کوئی اس سے فوری توانائی محسوس کرتا ہے تو کسی کی نیند ہی بھاگ جاتی ہے اور کچھ لوگوں کو تو اتنا سکون ملتا ہے کہ انھیں کیفین پیٹ میں جاتے ہی نیند کے جھونکے بھی آنے لگتے ہیں۔

کیفین والے مشروبات پیشاب آور بھی ثابت ہو سکتے ہیں، اس کے پینے سے آپ کو بار بار واش روم جانے کی حاجت محسوس ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اپنی کیفین کی عادت کم کرنا چاہتے ہیں تو اسے آہستہ آہستہ کم کریں۔ یک دم اسے ترک کرنے سے آپ کو سر درد بھی شروع ہو سکتا ہے۔ مختلف جڑی بوٹیوں سے کشید کی ہوئی چائے یا قہوے، قدرتی جوس یا پھر ہلکا نیم گرم پانی اس کا متبادل ہو سکتے ہیں۔

جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

کبھی کبھار آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ نے دن بھر میں کتنا پانی پیا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی کا اندازہ کچھ نشانیوں سے لگایا جا سکتا ہے جیسے کہ سر میں رہنے والا مسلسل درد، گھبراہٹ، سستی، منہ اور ہونٹوں کا خشک ہو جانا۔ طبی ماہرین کے مطابق دن میں لگ بھگ 6 سے 8 گلاس پانی پینا ضرروی ہوتا ہے۔

کام کرتے ہوئے پانی کی ہلکی اور چھوٹی بوتل یا پھر ایک گلاس اپنی میز پر یا آس پاس رکھیں تاکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آپ پانی پیتے رہیں، بھول نا جائیں۔

اگر آپ سادہ پانی نا پینا چاہیں تو اس میں کوئی مشروب شامل کر لیں، یا پھر کوئی ذائقے دار پھل یا سبزی پانی میں ڈال کر رکھ لیں تاکہ ان کا ذائقہ آپ پانی کے ساتھ محسوس کرتے رہیں۔

حرکت میں رہیں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

حرکت میں برکت ہے یہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا۔ اگر سنا ہے تو کام کی جگہ پر بھی عمل کرنا شروع کر دیں۔ اپنی جگہ بیٹھے رہیں گے تو سستی اور نیند کا غلبہ محسوس کریں گے۔

مسلسل ایک جگہ بیٹھے رہنے سے وزن بڑھنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہلکی پھلکی ورزش اپنے معمول کا حصہ بنا لیں۔ اس طرح ناصرف آپ کی جسمانی بلکہ آپ کے دل کی صحت بھی درست رہے گی۔

اگر آپ کے پاس ورزش کے لیے آفس سے باہر جانے کا وقت نہیں ہے تو اپنے لیے کچھ اصول طے کر لیں۔ لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں۔ اگر منزل بہت اوپر ہے تو آدھا سفر لفٹ کے ذریعے طے کریں اور آدھا سیڑھیوں سے۔ بس، ٹیکسی یا رکشے میں سفر کرنے کی صورت میں ایک اسٹاپ پہلے اتر جائیں بلکہ آپ ایسا اپنی گاڑی موجود ہونے پر بھی کر سکتے ہیں۔ اس طریقے سے آپ کی کسی حد چہل قدمی بھی ہو جائے گی۔

اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے کی کوشش کریں جیسے کہ سیٹ سے اٹھ کر پانی پینا، فوٹو اسٹیٹ کے لیے جانا، فائل یا ضروری کاغذات ساتھ کام کرنے والوں کی میز تک خود پہنچانا وغیرہ۔ اور کچھ بھی نہ ملے تو یوں ہی گھڑی دیکھ کر اپنے لیے کام سے وقت نکال کر ٹہل لیں۔

کام کے دوران تھوڑا وقفہ ضروری ہے

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

کام کی بہتات کی وجہ سے اکثر آپ اپنے لیے فرصت کے کچھ پل نہیں نکال پاتے۔ مسلسل کام کرنے کی وجہ سے نہ صرف صحت خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے بلکہ آپ کا کام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

اپنی کارکردگی بڑھانے، ذہنی تناؤ سے نکلنے کے لیے ‘مختصر وقفہ’ضروری ہے۔ کچھ وقت اپنے دوستوں سے خوش گپیوں کے لیے نکالیں یا پھر یوں ہی کھڑکی  سے باہر کچھ دیر دیکھ لیں۔ ہو سکے تو تازہ ہوا کے کچھ جھونکے بھی لے لیں اور تازہ دم ہو کر واپس اپنی سیٹ پر کام کے لیے بیٹھ جائیں۔

کیا آپ کے بیٹھنے کی پوزیشن آرام دہ ہے؟

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

 کمپیوٹر اسکرین کے سامنے کرسی میں آرام سے دھنس کر بیٹھنا بہت آرام دہ محسوس ہوتا ہے یا کرسی پر بیٹھ کر اسکرین کی طرف جھکنا بہتر لگتا ہے لیکن اصل میں ایسا ہے نہیں۔ اس طرح سے آپ کی گردن، کندھوں اور ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑ سکتا ہے اور نتیجتاً آپ صحت کے کسی پیچیدہ مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کرسی پر صحیح پوزیشن میں بیٹھنے کی شعوری کوشش کریں۔ کمپیوٹر اسکرین اور آنکھوں کے درمیان واضح فاصلہ رکھیں۔کمپیوٹر پر فونٹ سائز آپ کے پڑھنے کے لیے صحیح ہو۔ پڑھنے کے لیے آپ کو اپنی آنکھوں پر زور نہ دینا پڑتا ہو۔

آپ کے ہاتھ، بازو اور کلائیوں کی پوزیشن بھی درست ہو، بازو کرسی پر انگریزی حرف ‘ایل’ کے شکل میں موجود ہوں۔ اگر آپ کا کام کمپیوٹر پر ٹائپنگ کا ہے تو ٹائپنگ کے درمیان چند لمحوں کا وقفہ ضرور دیں تاکہ انگلیاں مسلسل کام میں رہنے کی وجہ سے تھک نہ جائیں۔

کام کرنے کے دوران اگر کوئی آلہ جیسے ہیڈ فون، ٹیلی فون یا موبائل وغیرہ آپ کے زیرِ استعمال رہتا ہے تو متواتر استعمال کی بجائے کچھ دیر کے لیے ان آلات کو ایک طرف رکھ دیں۔

ذہنی تناؤ کم کریں

فوٹو بشکریہ : بی بی سی گڈ فوڈ ڈاٹ کام

نا پوری ہونے والی ڈیڈ لائن، طویل اوقاتِ کار اور کام کا دباؤ آپ کے ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

کام کی جگہ پر اپنا ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے یہ طریقے اپنائے جا سکتے ہیں؛

ذہنی سکون کے لیے یوگا، عبادت، مراقبہ کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ اپنے کام اور گھر کے درمیان اپنا ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے وقت نکالیں۔

اپنی نیند کا خیال ضرور رکھیں، دیر سے سونا تو آسان ہوتا ہے لیکن  پھر جلدی اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نیند کی یہ کمی پورا دن آپ کو مشکل میں ڈالے رکھتی ہے۔ صحت تو خراب ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی کام بھی خراب ہوتا ہے۔ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے طبی ماہرین 8 گھنٹے کی پُرسکون نیند تجویز کرتے ہیں۔

اپنے کام اور گھر میں توازن قائم رکھنے کے لیے گھر والوں، عزیز و اقارب کے ساتھ کچھ وقت گزاریں، ساتھ اگر آپ کے کوئی مشاغل ہیں تو ان کو بھی کچھ وقت دیں۔

یہ تجاویز آپ کے لیے احتیاطی تدابیر تو ہو سکتی ہیں لیکن اگر آپ پہلے سے کسی طبی مسئلے کا شکار ہیں تو پھر اپنے معالج کے پاس جانے کے لیے ضرور وقت نکالیں۔آخر آپ کے کام اور گھر کے ساتھ ساتھ آپ کا خود پر اتنا حق تو بنتا ہے۔

Comments
Loading...