پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں شامل نہیں کیا ،3ماہ کی مہلت دیدی،ایف اے ٹی ایف

پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں شامل نہیں کیا ،3ماہ کی مہلت دیدی،ایف اے ٹی ایف
یف اے ٹی ایف پاکستان کا نام گرے فہرست میں شامل کرنے کی خبروں کی ذمہ دار نہیں ، اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مشکلات ہوسکتی ہیں،ترجمان
’پاکستان کا نام جون سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل ہو جائیگا،معیشت پراثرنہیں ہوگا، مشیر مفتاح اسماعیل
اسلام آباد(آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی امریکی کوشش ناکام، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ترجمان الیگزینڈر ڈانیالے نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق پاکستان کا نام ’گرے لسٹ‘ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کا نام گرے فہرست میں شامل کرنے کی خبروں کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کو تادیبی اقدامات کرنے کے لیے 3 ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور اس دوران پاکستان نے یہ اقدامات نہ اٹھائے تو اس کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ فی الحال پاکستان سے متعلق سب قیاس آرائیاں ہیں اور بھارتی سفارت کار کچھ چیزیں لیک کررہے ہیں۔واضح رہے کہ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس کا آج (23 فروری) آخری دن تھا جس میں پاکستان کا نام ’گرے لسٹ‘ میں ڈالے جانے کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا جانا تھا۔واضح رہے کہ بھارتی میڈیا رپورٹس میں آج یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، تاہم اب اس دعوے کی ایف ٹی ایف اے اور پاکستان کی جانب سے تردید کردی گئی ہے۔دوسری جانب مفتاح اسماعیل نے تصدیق کی ہے کہ جون میں پاکستان کا نام ناپسندیدہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔نجی ٹی وی کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جون میں عالمی ادارہ جون میں پاکستان کا نام ناپسندیدہ ممالک کی لسٹ میں شامل کر دے گا لیکن اس کا پاکستانی معیشت پر اثر نہیں ہوگا تاہم پاکستان کو چاہیے کہ لانگ ٹرم پالیسی کا تعین کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں فی الحال پاکستان کا نام شامل نہیں، جون میں پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شامل ہو جائے گا۔ روایت یہ رہی ہے کہ لسٹ میں سے نام نکالا نہیں جاتا، شاید ان کی سیاسی ضرورت تھی کہ پاکستان کا نام ڈالا جائے۔ پاکستان کو ان کے مطلوبہ ایکشن پلان پر عمل کرنا ہو گا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ امریکا کو اس قدم سے ہم پر ایک سیاسی کالک لگانی تھی۔ پاکستان کا نام ڈالنا امریکا کی سیاست اور انا کا مسئلہ ہو گیا تھا۔ چین، ترکی اور جی سی سی ممالک نے ہمارے حق میں بات کی لیکن زیادہ تر ممالک نے اس معاملے پر کوئی پوزیشن نہیں لی۔ امریکا کے حامی بھی سمجھ رہے تھے کہ امریکا غلط کر رہا ہے۔دو دن بعد سعودی عرب اور خلیج تعاون تنظیم پر اثر انداز ہوتا گیا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ صرف تین چار ملک ہمارے بات نہ کرتے۔
گرے لسٹ معاملہ، خارجہ پالیسی ناکام ہوگئی ، شیریں مزاری
چین اور روس بھی اس وقت پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہیں
اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان کا نام دہشتگردوں کو معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیے جانے والے معاملے پر تحریک انصاف کی قیادت نے حکومت کی ناکام پالیسی اور فیل ڈپلومیسی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔تحریک انصاف کی سینئر راہنما اور بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر شریں مزار ی کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو دہشتگروں کو معاونت فراہم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا جانا حکومت کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے، ناکام خارجہ پالیسی کے سبب سے یہ دن دیکھنا پڑے ، امریکہ اورپورپی ممالک نے پاکستان کو سبق سکھانے کا عندیہ دیا تھا البتہ حکومت نے بین الاقوامی سطح پر لابنگ نہیں کی، جو حکومت کی نام خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس کی وجہ سے حالات اس حد خراب ہیں کہ ہمسایہ دوست ملک چین اور روس بھی اس وقت پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں صرف ترکی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔پاکستان کو ہدف بنانے کے لیے امریکہ اور یورپی یونین نے تمام اقدار اور قوائد روند دئیے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ناکام قراردیا ہے۔

Comments
Loading...