امریکہ شمالی کوریا کے خلاف ’تاریخ کی سب سے بڑی‘ پابندیاں لگا رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں لگانے لگا ہے جو کہ تاریخ کی ’سب سے بڑی پابندیاں‘ ہیں۔

مجوزہ پابندیوں میں شمالی کوریا کے 50 بحری جہازوں اور بحری ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں سے کچھ چین اور تائیوان میں بھی کام کرتی ہیں۔

شمالی کوریا کے خلاف اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے پہلے ہی متعدد امریکی اور عالمی اقتصادی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

تاہم شمالی کوریا پھر بھی اپنے جوہری تجربے جاری رکھے ہوئے ہے جن میں گذشتہ سال متعدد جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ اور طویل رینج کا بلسٹک میزائل شامل ہے جو کہ امریکہ کو نشانہ بنا سکے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانا اور اس کے جوہری پروگرام کے لیے مالی وسائل کو ختم کرنا ہے۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک فرد اور 27 کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے 16 (جن میں سے زیادہ تر بحری ٹرانسپورٹ کمپنیاں ہیں) شمالی کوریا سے تعلق رکھتی ہیں مگر پانچ کا اندراج ہانگ کانگ، دو چین، دو تائیوان، ایک پاناما اور ایک سنگاپور میں ہے۔

28 بحری جہاز بھی اس فہرست میں ہیں جن میں سے زیادہ تر شمالی کوریائی ہیں تاہم پاناما کا ایک، کامروس، اور تنزانیہ کا ایک ایک بحری جہاز بھی شامل کیا گیا ہے۔

جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہویے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر تازہ ترین پابندیوں کے فوائد سامنے نہیں آتے تو انتہائی سنگین نتائج ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر پابندیاں کام نہیں کرتیں تو ہم دوسرے مرحلے پر چلے جائیں گے اور وہ دنیا کے لیے انتہائی بدقسمتی ہو گی۔‘

’یہ ایک باغی ملک ہے۔ اگر ہم کوئی معاہدہ کر سکے تو اچھا ہو گا اور اگر ہم نہیں کر پاتے تو کچھ اور کرنا پڑے گا۔‘

انھوں نے واضح نہیں کیا کہ دوسرا مرحلہ کیا ہو گا۔؟

یاد رہے کہ گذشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامی کونسل نے پیانگ یانگ کی جانب سے میزائل تجربے کے جواب میں یہ نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی قرارداد کے مسودے میں شمالی کوریا کی تمام تیار پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 90 فیصد تک کم کرنا شامل تھا۔

شمالی کوریا نے میزائل تجربے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ پابندیوں کو ‘جنگی اقدام’ قرار دیا۔

اس موقعے پر روس کے صدر ولادی میر پوتن نے خبردار کیا کہ اگر شمالی کوریا کے مسئلہ کا سفارتی حل تلاش نہیں کیا گیا تو یہ ایک ’عالمی آفت‘ بن سکتا ہے۔

صدر پوتن نے واضح کیا ہے کہ روس اس طرح کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرے گا جبکہ سیاسی اور اقتصادی طور پر شمالی کوریا کے اتحادی ملک چین نے بھی کہا ہے کہ وہ پیانگ یانگ پر دباؤ ڈالنے کے خلاف مزاحمت کرے گا۔

صدر پوتن کا بیان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے معاملے پر ماسکو اور بیجنگ کا موقف امریکہ اور اس کے اتحادی سے مختلف ہے۔

Comments
Loading...