کرد ملیشیا کیخلاف کارروائی، ترکی نے بین الاقوامی تنقید مسترد کر دی

انقرہ:  ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کر دیا۔ نیٹو میں ترکی کے نمائندے احمد بیرات کا کہنا ہے کہ جلدی اس آپریشن میں کامیاب ہونگے۔

ترکی نے کردوں کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کر دیا۔ نیٹو میں ترکی کے نمائندے احمد بیرات نے تنظیم پر اس کارروائی کی حمایت کرنے کا کہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اگر ترکی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں تو انہیں نیٹو کے لیے اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ ترکی نے شمالی شام میں کردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کی زمینی افواج عفرین شہر میں داخل کر دی ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کردوں کو بہت جلد کچلنے کا عندیہ دیا ہے۔ ترکی شام کے علاقے عفرین سے کردوں کا انخلا چاہتا ہے جو 2012ء سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔

ادھر طیب اردوان کیلئے مسئلے کھڑے ہونے لگے ہیں، شام کے کردوں نے ترکی کے خلاف امریکا سے مدد مانگ لی ہے جبکہ فرانس نے سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

شامی علاقے میں ترکی کے فوجی آپریشن کی وجہ سے کشیدگی پھیلنے لگی ہے۔ ترک فوج نے عفرین کے بعد ضلع اعزاز میں بھی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

صدر اردوان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا درمیان میں نہ آئے، ترکی آپریشن کی تکمیل سے پہلے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اردوان نے ترکی کے کرد شہریوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔ معاملے پر گفت و شنید کے لیے فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

Comments
Loading...