Official Web

بچوں میں عدم برداشت کی وجہ خون ریزی والی وڈیو گیمز

ملتان : خون ریزی سے بھرپور اور اخلاقیات سے گری ہو ئی وڈیو گیمز نے نوعمر بچوں اور نوجوانوں کو خطر ناک حد تک اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ان وڈیو گیمز کے لئے جنون کی کیفیت رکھنے والے بچوں میں برداشت کا مادہ ختم ہو تا جا رہا ہے ،ذہنی دبا ؤ کا شکا ر رہنے لگے ہیں،بینائی کمزور ہوگئی ،پیسے اوروقت کا ضیاع کیساتھ ساتھ نوجوان تنہائی پسند اور نفسیاتی مرض بننے لگے۔

انٹر نیٹ پر دستیاب درجنوں گیمز میں جدید اسلحہ سے مصنوعی کر داروں کے جسموں کے پرخچے اڑانا،تیز دھار چاقو اور تلواروں سے اعضا کا ٹنے پر مشتمل مختلف مراحل ہیں۔ زیادہ قتل و غارت کرنے والے کو زیا دہ پوائنٹس ملتے ہیں ، گیمز کے مختلف مراحل طے کر نے پر بر ہنہ ڈانسز بھی ان وڈیو گیمز میں شامل ہیں،متعلقہ اداروں نے ان وڈیوگیمزکی روک تھام کیلئے کو ئی اقدام نہیں کیا، یہ گیمز 10 سے 15 افراد ایک ہی وقت میں آن لائن کھیل سکتے ہیں اور آپس میں بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔

ان گیمز میں مختلف مراحل طے کر نے ہو تے ہیں ۔اکثر میں مختلف ممالک کی فوج کو دکھایا گیا ہے، 100 سے 150 افراد کو قتل کرنے کے بعد اگلے سٹیج میں جاسکتے ہیں ۔بیشتر گیمز میں چور پولیس کا کھیل بھی دکھایا گیا ہے جس میں بچوں کو چو ر کا کردار ادا کر نا ہو تا ہے اور کسی مقام پر موجود خزانے کو لوٹنے کے بعد فرار ہو نا ہو تا ہے خواہ اسکے لئے انہیں پولیس اہلکاروں کو ہی قتل کیوں نہ کر نا پڑے ، وڈیو گیمز میں اسلحہ چلانے والے بچوں کو یہ بھی دکھایا جا تا ہے کہ ان کی چلا ئی جا نے والی گولی یا میزائل کہاں لگا ہے اور اس سے کتنی ہلاکتیں ہو ئی ہیں۔

وڈیو گیمز میں ایک مرحلہ طے کر نے بعد ان میں جشن دکھایا جا تا ہے جو بر ہنہ اور نیم بر ہنہ خواتین پر مشتمل ہو تا ہے ، ملتان سمیت پا کستان بھر میں ان وڈیو گیمز کے شیدائیوں میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے جس سے کئی معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں، ڈاکٹر ہمایوں شہزاد کے مطابق بچوں کے ذہن نا پختہ ہو تے ہیں، فلمیں اور گیمز دیکھ کران پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

ان گیمز کے حقیقی زندگی میں منفی اثرات بہت ہیں،سماجی حلقوں نے بھی ان گیمز کی بندش اور ان کا جائزہ لینے کی اپیل کی ہے جبکہ کچھ والدین نے ’ دنیا ‘سے گفتگوکرتے ہو ئے کہا کہ دن ہو رات بچے گیمز میں مصروف رہتے ہیں ،کئی بچوں کو عینکیں بھی لگ چکی ہیں جبکہ کئی دما غی طور پر بھی کمزورہو چکے ہیں۔ خون ریزی

Comments
Loading...