جدید طرز کی ٹونٹیاں یعنی ایئربڈز

پُرشور ماحول سے گھبرا کر ہم بے اختیار کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہمارے کانوں کو عارضی سکون مل جاتا ہے۔ یہی کام جدید طرز کی ٹونٹیاں یعنی ایئربڈز انجام دیتی ہیں۔

انھیں کانوں میں ٹھونس لیا جائے تو پھر کوئی آواز کان کے اندر داخل نہیں ہوسکتی۔ لیکن ان کا نقصان یہ ہوگا پھر آپ اپنے ساتھی کے ساتھ بات چیت کرنے سے بھی قاصر ہوجائیں گے۔ بعض اوقات ہم لوگوں کے جم غفیر میں چلتے ہوئے کسی کے ساتھ گفتگو کررہے ہوتے ہیں یا پھر سیل فون پر کسی سے کچھ کہہ سُن رہے ہوتے ہیں، مگر پُرشور ماحول میں بات چیت کرنا محال ہوجاتا ہے۔ ان لمحات میں بڑی کوفت ہوتی ہے اور شور وغل مچاتے انسانوں اور پاں پاں کرتی گاڑیوں پر غصہ بھی آتا ہے۔ 

یہ جدید ایئربڈز اس کوفت اور پریشانی کا بہترین علاج ہیں۔ عام ایئربڈز یا ہیڈفون پہنتے ہی سماعت تک رسائی حاصل کرنے والی چیخ پُکار کی شدت دھیمی پڑجاتی ہے اور ہم مزے سے اپنے من پسند گیت سُن سکتے ہیں۔ یہ ایئربڈز کانوں تک آوازوں کی رسائی میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتے بلکہ انھیں ’ری فائن‘ کرتے اور آپ کو اپنی من پسند آوازیں سُننے کے قابل بنادیتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے اگر آپ پُرشور ریستوراں کی کسی میز پر بیٹھے ہوئے ہوں اور شوروغل کی وجہ سے کان پڑی سُنائی نہیں دے رہی ہو، مگر آپ چاہتے ہوں کہ برابر والی میز پر بیٹھے ہوئے افراد کی أوازیں واضح طور پر سُن سکیں ، تو بس یہ ایئربڈز پہن لیجیے اور پھر آوازوں کو ٹیون کرنا شروع کردیجیے۔

ایسے ہی جیسے کسی زمانے میں ریڈیو پر مختلف اسٹیشن ٹیون کیے جاتے تھے۔ مطلوبہ آواز واضح طور پر سنائی دینے لگے تو ٹیوننگ روک دیجیے اور شوروغل کے درمیان ان لوگوں کی گفتگو مزے سے سُنیے۔ اگر آپ اپنے ساتھی سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ایئربڈز کو ٹیون کرکے وہاں سیٹ کرلیجیے جہاں صرف آپ اور آپ کے ساتھی کی آواز آپ کے کانوں تک رسائی حاصل کررہی ہوں۔ ہے ناں کام کی چیز!

Comments
Loading...