پاکستان خسرے کی وبا کا سب سے بڑا شکار

بحیرہ عرب کے بائیس ممالک میں سب سے زیادہ خسرہ کے مریض پاکستان میں ہیں.

لاہور: ()اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرقی بحیرہ عرب کے بائیس مملک میں سب سے زیادہ خسرے کے کیسز پاکستان میں پیش آئے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے صحت کے مطابق پاکستان میں خسرے کے تقریباً 10540 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 6494 مریضوں میں بیماری کی تصدیق ہوئی۔ اس فہرست میں دوسرا نمبر افغانستان کا ہے جہاں 1511 مریضوں میں خسرہ کی شناخت ہوئی ہے اور 513 مریضوں کے ساتھ شام تیسرے نمبر پر ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء میں ان بائیس ممالک سے 6494 خسرہ کے کیس سامنے آئے تھے جن میں سے 65 کیس پاکستان سے تھے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اصل کیسز کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ ملک میں کمزور نگرانی کے نظام کے باعث کئی کیسوں کا سامنے آنے سے رہ جانا ہے۔

پاکستانی وزارت صحت کے شعبے نیشنل ہیلتھ سروس کے ڈاکٹر اسد حفیظ کے مطابق، ہر آٹھ سے دس سال بعد ملک میں خسرے کی وبا پھوٹتی ہے۔ اسی لیے رواں برس ستمبر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو 35 ملین انسداد خسرہ کی ویکسین دی جائے گی۔

قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق آٹھ برس قبل پاکستان میں خسرے کے دس ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس بیماری کی وجہ سے 150 بچوں کی جانیں بھی چلی گئیں تھیں۔

خسرہ ایک متعدی مرض ہے۔ اِس کا وائرس نظام تنفس سے پھیلتا ہے۔ خسرہ کی علامات میں جسم پر سرخ نشانات کا ابھر آنا، بخار، کھانسی اور نزلہ شامل ہے

Comments
Loading...