خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق درخواستوں پر جلد ازجلد فیصلے دینے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، صرف چاہتا ہوں عوام کو دو وقت کی روٹی اور صاف پانی مل جائے، کسی سیاسی کیس کو ہاتھ لگانا نہیں چاہتے، مجبوری ہے ہمیں وہ مقدمات بھی سننا پڑتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پرازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا میری خواہش ہے کہ عوام کو سستی ادویات ملیں، تمام وکلا کو بھی کہتا ہوں ہماری مدد کریں، اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو کچھ دیا جائے، ہماری نیت صاف ہے، جس طرح مرضی ہے ہمارا امتحان لے لیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ادویہ ساز کمپنیوں کے پاس از خود قیمت بڑھانے کا اختیار نہیں، ڈرگ پالیسی سے پہلے ڈریپ کمپنیوں سے ملی ہوئی تھی، درخواستیں جان بوجھ کر زیر التواء رکھ کر ملی بھگت سے کمپنیوں کوعدالتوں سے ریلیف دلوایا جاتا تھا۔

ڈریپ حکام نے بتایا کمپنیاں نامکمل درخواستیں دیتی ہیں اس لیے تاخیر ہوتی ہے، ڈریپ سے اضافہ 8 فیصد ملتا ہے، عدالتوں سے زیادہ ریلیف لیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے والی کمپنیوں کی فہرست فراہم کریں تمام حکم امتناعی خارج کر دیں گے، ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنا عدالت کا کام نہیں، کاروبار متاثر نہیں ہونا چاہیے ، کمپنیوں کو جائز منافع ضرور ملے لیکن ڈاکٹرز اور ادویہ ساز کمپنیوں میں خدمت کا جذبہ بھی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈریپ وکلاء کے دلائل مکمل ہونے تک ڈیٹا اکھٹا کرے اور تمام درخواستوں پرجلد از جلد فیصلہ کرے، کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی ، تمام کام شفافیت اور ایمانداری سے کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈریپ کو وہ قیمت متعین کرنی چاہیے جو عوام پربوجھ نہ بنے، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ڈرگ پالیسی کے مطابق ہی ہوسکتا ہے، سپریم کورٹ تمام امور کی نگرانی خود کرے گی ، بلاوجہ کے حکم امتناع روکنے کیلئے دیگر عدالتوں کو گائیڈ لائن فراہم کریں گے۔ مقدمے کی سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

Comments
Loading...