Official Web

انسانی جسم میں دوائی پہنچانے کیلئے روبوٹ کی تیاری کا منصوبہ

میونخ:  جرمنی کے ماہرین نے ایک چھوٹا جیلی فش روبوٹ بنایا ہے جو اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکتا ہے اور منزل پرپہنچ کر خود کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کسی تار کے بغیر کام کرنے والا ’’جیلی فِش روبوٹ ‘‘صرف 5 ملی میٹر جسامت رکھتا ہے، اس کو کنٹرول کرنے اور چلانے کیلئے اس پر مقناطیسی ذرات لگائے گئے ہیں جو بیرونی مقناطیسی میدان کے زیرِ اثر کام کرتے ہیں۔

اگلے مرحلے پرجیلی فش روبوٹ کو انسانی جسم میں داخل ہونے کے قابل بنایا جائے گا جہاں یہ دوائیں پہنچانے اور شفا دینے کا کام بھی کرسکے گی لیکن اب بھی یہ منزل قدرے دور ہے۔  اس مرحلے کیلئے تحقیق جاری ہے جس میں روبوٹ کو انسانی جسم کے اندر موجود مختلف نظاموں کے حوالے سے ٹرینڈ کیا جائے گا تا کہ کسی نقصان کے بغیر یہ اندرونی اعضا کو نہ صرف دوا پہنچا سکے بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کی مرمت کا کام بھی سر انجام دے سکے۔

جیلی فش روبوٹ کی خاصیت اس کا مختلف ماحول میں ڈھل جانے کی خودکار صلاحیت ہے جس کے تحت اس کی بغیر کسی براہ راست ہدایات کے پرانے ڈیٹا کو استعمال میں لا کر بروقت درست فیصلے کرنا ہے۔ انسانی زندگی کی حساسیت کے سبب اس روبوٹ پر ابھی مزید کام درکار ہے۔

Comments
Loading...