Official Web

کرتار پور راہداری؛ پاکستان اور بھارت کے درمیان 80 فیصد معاملات طے پاگئے

لاہور: 

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کرتار پور راہداری سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان 80 فیصد معاملات طے پاگئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کرتارپور کوریڈور سے متعلق بھارت سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کی جب کہ بھارت کا 8 رکنی وفد امور داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری ایس سی ایل داس کی سربراہی میں شریک تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کرتارپور راہداری پر دونوں اطراف میں ترقیاتی کام کی پیش رفت سمیت مختلف امورپربات کی گئی۔ اجلاس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی، اجلاس میں بھارتی سکھ یاتریوں کے پاکستان میں انٹری کے طریقہ کار، رجسٹریشن ، کسٹم، امیگریشن، انٹری فیس، کرنسی کی حد، ٹرانسپورٹ، میڈیکل ایمرجنسی، گوردوارہ دربارصاحب میں قیام کے دورانیے سمیت دیگر اہم امور کو حتمی شکل دی گئی۔ بھارت کے اعتراض کے بعد پاکستان نے سکھوں کی بنائی گئی کمیٹی پر نظرثانی کی ہے اور نئی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتارپور راہداری امن کی طرف ایک قدم ہے، مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک میں 80 فیصد معاملات طے پاچکے ہیں، باقی معاملات طے کرنے کیلئے آخری میٹنگ ہوگی۔

مذاکرات سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ پر کرتار پور راہداری کھولی جا رہی ہے، کرتار پور راہداری پر 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، پاکستان راہداری کو مقررہ وقت پر کھولنے کا خواہش مند ہے، مذاکرات کے لئے مثبت سوچ سے آگے بڑھ رہے ہیں، مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دوسرا دور خوش آئند ہے، ہم اپریل میں بھی مذاکرات کے لیے تیار تھے تاہم بھارت کی جانب سے اسے ملتوی کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اوربھارت کے مابین کرتارپور راہداری پر مذاکرات کا پہلا مرحلہ 14 مار چ کو بھارت کے اٹاری بارڈر پر ہوا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک کے مابین 2 اپریل کو واہگہ بارڈر پر مذاکرات طے پائے تھے تاہم بھارت نے ان مذاکرات میں شرکت سے انکارکردیاتھا، 3 ماہ بعد بھارت نے واہگہ کے مقام پر ہی پاکستان سے مذاکرات کئے اور اس کی درخواست بھی اس بار بھارت کی طرف سے کی گئی۔

Comments
Loading...