Official Web

سوشل میڈیا صارفین کے ڈیٹا تک رسائی، اسرائیلی کمپنی کا حیران کن انکشاف

لندن: اسرائیل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی بڑی سماجی روابط کی ویب سائٹس سے صارفین کا ڈیٹا جمع کر سکتے ہیں۔ مثلاً سوشل میڈیا پر موجود مکمل تاریخ، ڈیلیٹ کردہ پیغامات اور تصاویر وغیرہ ہماری پہنچ سے دور نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ماضی میں واٹس ایپ ہیک کرنے کے الزام میں خبروں کی زینت بننے والی اسرائیلی خفیہ کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی سماجی روابط کی ویب سائٹس سے صارفین کا ڈیٹا جمع کرنے ہمارے لیے مشکل کام نہیں۔ این ایس او گروپ نے خریداروں کو بتایا ہے کہ ٹیکنالوجی خفیہ طریقے سے ایپل، گوگل، فیس بک، ایمازون اور مائیکروسافٹ کے سرورز سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا برآمد کرسکتی ہیں۔

سوالات کے تحریری جوابات دیتے ہوئے این ایس او جے ترجمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این ایس او کی سروسز اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بنیادی غلط فہمی پائی جاتی ہے این ایس او کی مصنوعات آج کے شائع شدہ آرٹیکل میں دیے گئے انفرا اسٹرکچر، سروسز کسی قسم کی کلیکشن کرنے کی صلاحیت اور کلاؤڈ ایپلکیشن تک رسائی فراہم نہیں کرتیں۔

مئی میں واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اس نے ایپلیکشن میں موجود سیکیورٹی ہول پلگ کرنے کے لیے اپڈیٹ جاری کررہی ہے جس سے جدید ترین اسپائی ویئر داخل کیا جاسکتا تھا جسے ممکنہ صحافیوں، رضاکاروں اور دیگر کیخلاف استعمال کیا جاسکتا تھا۔

کمپنی کی جانب سے مشتبہ ادارے کا نام نہیں دیا گیا تھا تاہم یہ ہیک منظر عام پر آنے کے وقت واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار جوزف ہال جو سینـٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ٹیکنالوجسٹ بھی ہیں، نے کہا تھا کہ اس کا تعلق این ایس او کے پیگاس سافٹ ویئر سے ہے۔ یہ سافٹ ویئر عموماً قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پروڈکٹ کی تفصیلات اور دستاویز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ فون سے بڑھ کر کلاؤڈ میں محفوظ معلومات حاصل کر لے۔ مثلاً جس کی معلومات حاصل کی جارہی ہے اس کی موجودگی کی مکمل تاریخ، ڈیلیٹ کردہ پیغامات اور تصاویر وغیرہ۔

این ایس او کا کہنا تھا کہ وہ پیگاسز سسٹم آپریٹ نہیں کرتی صرف حکومتی صارفین کو لائسنس جاری کرتی ہے جس کا واحد مقصد سنگین جرائم یا دہشت گردی کو روکنا یا اس کی تفتیش کرنا ہے۔

یاد رہے کہ این ایس او اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے نزدیک واقع ساحلی اور جدید ٹیکنالوجی کے مرکز شہر ہرزیلیا میں ہے۔

Comments
Loading...