گُردوں کا عالمی دن اور خواتین

آج عورتیں دنیا کی آبادی کا نصف سے زائد ہیں اور یہ مردوں کی زندگی کا نصف بہتر ہوتی ہیں۔

صحت کی دنیا میں یہ دن ’’گردوں کا عالمی دن‘‘ کے طور پر بھی منایا جارہا ہے اور گردوں کا عالمی دن اس سال عورتوں کے نام سے منسوب ہے، یعنی ’’ورلڈ کڈنی ڈے اور عورت‘‘مگر شاید خود عورتوں کو بھی اس بات کا احساس نہیں ہے کہ ان کے گردے کی ان کی زندگی میں کیا اہمیت ہے؟ اور وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک صحت مند عورت کی ذرا سی بے پروائی سے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں۔

گزشتہ بارہ سال سے مارچ کی دوسری جمعرات اقوام عالم ’’گردوں کا عالمی دن‘‘ کے طور پر منا رہی ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں میں ان عوامل کی آگاہی دینا ہے جو خرابی گردہ اور گردوں کی مکمل تباہی کا سبب بنتے ہیں اور انسانی صحت کو اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ اس کے بعد ایک جیتی جاگتی زندگی زندہ رہنے کے لیے ڈائیلیسس یا تبدیلی گردہ کی محتاج ہوجاتی ہے۔

پہلی بات یہ کہ یہ ساری دنیا میں اس وقت کا سب سے منہگا طریقہ علاج ہے اور دوسرے یہ کہ اتنے گردے میسر نہیں کہ ہر بیمار اس سہولت سے مستفید ہوسکے۔

انہی مسائل کے پیش نظر امراض گردہ کی عالمی تنظیموں نے فیصلہ کیا کہ عوام کو ان عوامل کی زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے جو گردوں کی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ مثلاً ذیابیطس، بلند فشار خون، موروثی بیماریاں، پتھریاں وغیرہ۔

دنیا کی آبادی کا 10فی صد خرابی گردہ کے امراض میں مبتلا ہے اور دنیا میں HIVاور AIDSکے بعد مرنے کا تیسرا بڑا سبب ہے، جب کہ 2010ء تک امراض گردہ کے باعث مرنے والوں کا تناسب 18ویں نمبر پر تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ محض 8 سال کے عرصے میں موت کا یہ سبب تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ پاکستان میں ایک لاکھ مرنے والوں میں سے 24.77% کی موت کا سبب امراض گردہ ہیں یعنی 25000 افراد سالانہ گردے کی بیماریوں کے باعث مرتے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں آج بھی سب سے زیادہ اموات نوزائیدہ بچوں کی ہوتی ہیں۔ یہی نہیں اس ملک کی 84 فی صد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور دیہات کی 90 فی صد آبادی صاف پانی کی سہولت سے محروم ہے۔ اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عورتوں کی صحت کا کیا حال ہے۔

آج کے دن ہم اگر پاکستانی طرز معاشرت کے پس منظر میں دیکھیں تو حقیقت بہت ہی تلخ ہے۔ حالاں کہ صحت کے تمام معاملات پر عورت کا خالصتاً اپنا مسئلہ ہے لیکن پاکستانی طرز معاشرت میں عورت ایک ایسے ماحول میں زندہ رہنے پر مجبور ہے جہاں اس کے پیدا ہونے سے لے کر موت تک کے اکثر فیصلے اس کے باپ بھائی، شوہر اور بیٹے کرتے ہیں۔ پاکستان میں عورتوں کی آبادی کا 80 فی صد سے زائد ناخواندہ عورتوں پر مشتمل ہے۔

آبادی کے اتنے بڑے حصے کا ناخواندہ ہونا بھی شاید اتنا برا نہیں جتنا یہ کہ ان کی زندگی کے اکثر فیصلے مرد کرتے ہیں مثلاً حمل کا برقرار رہنا یا ڈاکٹر کے پاس جانا یا نہ جانا وغیرہ۔ جب ہم عورتوں کی خواندگی کی بات کرتے ہیں تو اس میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں جو اپنا نام لکھ سکتی ہیں یا جن کو قرآن پڑھنا آتا ہے۔ اکیسویں صدی میں ایک ایسا ملک جہاں شہری آبادی کے84 فی صد کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہو اور پانی کی فراہمی گھر کی عورتوں اور لڑکیوں کی ذمہ داری ہو، وہ ملک یا اس کی عورتیں کیسے ترقی کرسکتی ہیں۔

ایسے گھرانے نہ تعلیم پر توجہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی ان گھروں کی عورتیں صحت کے مسائل پر دھیان دے سکتی ہیں، خواہ وہ ان کی صحت ہو یا ان کے بچوں کی۔ اس سے بھی ہم آگاہ ہیں کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں آج بھی عورتوں کی اکثریت کی حیثیت اپنے گھروں میں ثانوی ہوتی ہے اور اس کو انسان کم ضروریات کے حصول کا ذریعہ زیادہ سمجھا جاتا ہے۔

آج جب دنیا عورتوں کے امراض گردہ سے متعلق آگاہی کی بات کررہی ہے تو پاکستان کی عورتوں کو بھی اس طرف دھیان دینا چاہیے، ساتھ ہی ان حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جن میں ہم زندہ رہتے ہیں۔ ایک مکمل صحت مند عورت ہی صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے اور صحت مند معاشرے سے مراد صحت مند بچے ہیں کہ آج بھی پاکستان میں پیدا ہونے والے ایک لاکھ بچوں میں سے 178 بچے مرجاتے ہیں۔ یہ غیر صحت مند ماؤں کے غیر صحت مند بچے ہوتے ہیں۔

ماں کی غذائی کمی کی وجہ سے بہت سے بچے پیدا ہوتے ہی مختلف مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حاملہ عورت کی صحت کا خیال رکھنا اس کے شوہر، خاندان اور معاشرہ سب کی ذمہ داری ہے۔ حاملہ عورت کے گردوں اور مثانے میں جراثیم (انفیکشن) کی موجودگی بچے کی قبل از وقت پیدائش کا سبب بنتی ہے۔ ایسی عورت کا حمل ضائع بھی ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان عورت ہی کا ہوتا ہے۔

حاملہ عورت کی جانب سے پیشاب میں جلن یا کسی بھی قسم کی تکلیف کا اظہار فوری توجہ طلب ہوتا ہے۔ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے بلڈ پریشر کا خاص خیال رکھیں، خاص طور پر دوران حمل کسی بھی قریبی زچہ و بچہ کلینک یا اسپتال میں خود کو رجسٹرڈ کرائیں اور تمام ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ سر میں مستقل درد یا گھبراہٹ کی شکایت کی صورت میں بلڈ پریشر چیک کرائیں۔ اس کی زیادتی نہ صرف زچہ و بچہ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ گردوں کی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ حمل کے دنوں میں پیروں کی سوجن بھی فوری توجہ چاہتی ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس بات کو یہ کہہ کر نہ ٹالیں کہ میری اماں اور ان کی اماں کو بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ شوگر کے مرض میں مبتلا عورتوں پر لازم ہے کہ وہ دوران حمل ماہر امراض زچہ و بچہ سے رابطے میں رہیں اور اس کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اکثر عورتوں کی شوگر حمل کے دنوں میں بڑھ جاتی ہے جو خطرے کی علامت ہے جس پر نگہ داشت و علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ عورتوں کا یہ گروپ اپنی زندگی میں آگے چل کر شوگر کے مرض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

حاملہ اور غیر حاملہ تمام عورتوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ بلڈ پریشر اور شوگر کا مرض ساری دنیا میں خرابی گردہ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ دوران زچگی خون کا ایک حد سے زیادہ ضائع ہونا بھی گردوں کی وقتی اور مکمل خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں عورت کا علاج صحیح وقت پر ہونا بہت ضروری ہے۔ یہی نہیں بچے کی پیدائش کے لیے بھی صحت مند ماحول بہت ضروری ہے۔

گھروں پر ناتجربہ کار ہاتھوں میں پیدائش کا عمل بعض اوقات عورت کی صحت کو ایسے مسائل سے دوچار کردیتا ہے جس کا آگے چل کر کوئی حل اور علاج نہیں ہوتا۔ بچے کی پیدائش کے دوران اگر عورتوں کے مثانے کو نقصان پہنچ جائے تو وہ ساری عمر کے لیے پیشاب نہ رکنے کے مرض میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔ حمل کے ضائع ہونے کی صورت میں بھی احتیاطی تدابیر ضروری ہوتی ہیں۔ اکثر عورتوں کے گردے اس موقع پر مناسب نگہداشت اور علاج نہ ہونے کی صورت میں ہمیشہ کے لیے خراب ہوجاتے ہیں جس کے باعث خاص طور سے دیہی علاقوں میں ان کی اموات تک ہوجاتی ہیں۔

عورتوں کو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان میں گردے مثانے کے انفیکشن کا تناسب مردوں کی نسبت زیادہ اور جلدی ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ عورتوں میں پیشاب کی نالی کا سیدھا ہونا اور دوسرا اس کا چھوٹا ہونا ہے۔ عورتوں اور لڑکیوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے خاص ایام کے دوران اپنے جسم، کپڑوں اور استعمال ہونے والے کپڑے کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ روزانہ غسل کریں۔ کپڑے بدلیں اور جلدی جلدی باتھ روم جائیں۔ اس سلسلے کی بے پروائی انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے جس کا علاج ماہر ڈاکٹر اینٹی بایوٹک کے ذریعے کرسکتا ہے۔

عورتیں اپنے گردوں کو یوں بھی صحت مند رکھ سکتی ہیں۔ اس کے لیے وہ روزانہ کی بنیاد پر خوب پانی پئیں اور باتھ رو م کے استعمال میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ تعلیم گاہوں اور کام کی جگہ پر صاف ستھرے باتھ روم کی سہولت عورتوں کا بھی حق ہے۔ اس حق کے استعمال میں تکلف سے کام نہ لیں۔ دردکی دواؤں کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ ان دواؤں کی زیادتی گردے کے افعال کو متاثر کرسکتی ہے۔ وزن کی زیادتی بھی گردوں کی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔

گردے نہ صرف خون کی صفائی کرتے ہیں، بلکہ ہماری صحت کا دار و مدار اسی کی صحت پر ہے۔ ان کی خرابی عورت، مرد دونوں کی خرابی صحت کا سبب بن سکتی ہے۔ یاد رکھیں! گردوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔

Comments
Loading...