Official Web

ملائیشیا کی 7 ریاستوں میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر پر پابندی

بھارت کے معروف مسلم اسکالر ذاکر نائیک نے ملائیشیا میں اپنی ایک تقریر کے دوران متنازع کلمات پر معافی مانگ لی ہے تاہم وہاں کی سات ریاستوں نے ان کے عوامی مقامات پر تقاریر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

53 سالہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر بھارت میں غداری اور منی لانڈرنگ کے مقدمات قائم ہیں اور گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے گزشتہ دنوں ایک تقریر کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے جس انہوں نے کہا تھا کہ ‘ملائیشیا میں ہندوؤں کو بھارت کی مسلم اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں اور یہ کہ ملائشین چینی وہاں پر مہمان تھے۔‘

مذکورہ تقریر پر ملائیشین پولیس نے ذاکر نائیک سے گزشتہ روز 10گھنٹے تک پوچھ گچھ کی ۔

ملائیشیا کی تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ آبادی میں سے 60 فیصد ’مالے‘ قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب کہ 40 فیصد دیگر مذاہب کے لوگ ہیں اور وہاں نسل و مذہب حساس معاملات ہیں۔

ذاکر نائیک نے اپنے کلمات پر معافی مانگی ہے لیکن کہا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق کے ہٹ کر لیا گیا ۔

منگل کو اپنے بیان میں ذاکر نائیک نے کہا کہ ان کا مقصد کسی بھی فرد یا برادری کو پریشان کرنا نہیں تھا۔’یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور میں اس غلط فہمی پر تہے دل سے معافی مانگتا ہوں۔’

ذاکر نائیک ملائیشیا کے مستقل رہائشی ہیں اور کئی وزراء نے متنازع کلمات پر ان کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ ساتھ ریاستوں نے ان کے عوامی مقامات پر پابندی عائد کی ہے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ذاکر نائیک اسلام کی ترویج کے لیے آزاد ہیں لیکن انہیں ملائیشیا کی نسلی سیاست پر کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔

Comments
Loading...