Official Web

مودی کان کھول کر سن لے اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے: عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیریوں پر جتنا بھی ظلم کر لے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے دنیا میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ میں ایک پاکستانی، ایک مسلمان اور ایک انسان ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، 40 دنوں سے ہمارے کشمیری، بھائی، بہنیں اور بچے محصور ہیں، بطور سفیر دنیا بھر میں جاؤں گا اور کشمیر کا معاملہ اٹھاؤں گا۔

انہوں نے کہا خاص طور پر نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ایک بزدل انسان صرف ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں پر بھارتی فوج کر رہی ہے، جس میں انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا جو نریندر مودی اور آر ایس ایس آج کشمیر میں کر رہی ہے، بہادر انسان کبھی بھی عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں کرتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مودی کشمیریوں پر جتنا مرضی ظلم کر لے کبھی کامیاب نہیں ہو گا کیونکہ کشمیر کے عوام اُن کے ساتھ نہیں ہیں۔

ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کی تاریخ بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ مودی بچپن سے آر ایس ایس کا ممبر ہے اور آر ایس ایس وہ جماعت ہے جس کے اندر مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے، اس جماعت کے بنانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کے لیے ہے، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر لوگوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کے 58 ممالک نے پاکستانی مؤقف کی تائید کی کہ کشمیر پر لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے، 50 سال میں پہلی بار کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھا، او آئی سی نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا، امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے کہ آپ کشمیر کے معاملے میں مداخلت کریں، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی پہلی دفعہ کشمیر پر بات ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے ہفتے نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا رہا ہوں، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا، کشمیریوں کے لیے ایسا اسٹینڈ لوں گا جو آج تک کسی نے بھی نہیں لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا پر کشمیریوں سے متعلق بات کروں گا اور دنیا کو بتاؤں گا کہ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کی اصلیت کیا ہے، بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے بانی ہٹلر کو اپنا رول ماڈل مانتے تھے، وہ بھی چاہتے تھےکہ مسلمانوں کو بھارت سے نکالا جائے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ آر ایس ایس کے نظریے پر ہو رہا ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی نے ہی گاندھی کا قتل کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی پائلٹ کو اس لیے رہا کیا تھا کیونکہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن بھارت میں لوگوں کو بتایا گیا کہ پاکستان ڈر گیا ہے، نریندر مودی کان کھول کر سن لو، ایمان والوں کو موت سے ڈر نہیں لگتا، یہ وہ قوم ہے جو آخری سانس تک لڑنا جانتی ہے، بھارت نے کوئی جارحیت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ کشمیری نوجوان بھارتی جارحیت کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں اور ہتھیار اٹھا کر لائن آف کنٹرول پار کرنا چاہتے ہیں لیکن جب تک میں نہ کہوں لائن آف کنٹرول کی طرف نہ جاتا، پہلے مجھے کشمیر کا کیس دنیا کو بتانے دو، جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنے دو، اس کے بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایل او سی کی طرف کب جانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو کشمیر کے لوگ چاہتے ہیں وہ ہمیں منظور ہے، کشمیریوں کو اپنے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

Comments
Loading...