Official Web

ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو کن چیزوں سے احتیاط کرنا چاہیے؟

بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر سے بہت سے لوگ متاثر ہیں  اور اس کی وجہ سے دل کا دورہ اور فالج جیسی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری میں مریض کی خوراک اور روز مرّہ کی عادات میں کچھ تبدیلیاں کرکے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہائی بلڈ پیشر جیسی بیماری میں مبتلا ہیں تو آپ کو اپنی خوراک میں چند تبدیلیاں کرنی پڑیں گی جس سے آپ کو اپنی صحت میں کافی مثبت تبدیلیاں محسوس ہوں گی۔

آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ بلند فشار خون میں آپ کو کن کن چیزوں سے گریز کرنا چاہیے۔

نمک اور شکر

فوٹو: بشکریہ منوکا فیڈ

نمک اور شکر دو ایسے اجزاء ہیں جن کا استعمال ہر چیز کو مزیدار بنانے میں کیا جاتا ہے، ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نمک اور شکر کی زائد مقدار نقصان کا باعث بنتی ہے، اب اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نمک اور شکر کا استعمال کرنا ہی بند کردیں۔

ہائی بلڈ پریشر کے مریض نمک اور شکر کو بہت محدود مقدار میں استعمال کریں ایسا کرنے سے ان کی صحت متاثر نہیں ہوگی۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق مردوں کو روزانہ 37.5 گرام یعنی 9 ٹی اسپون شکر کا استعمال کرنا چاہیے جبکہ خواتین کو25 گرام یعنی 6 ٹی اسپون شکر کا روز استعمال کرنا چاہیے۔ اگر ہم کیفینیٹڈ سوڈا کی بات کریں تو اس میں 33  گرام شکر موجود ہوتی ہے، ان تمام تر باتوں کو مد نطر رکھتے ہوئے معتدل مقدار میں شکر اور نمک کا استعمال کیجیئے۔

ٹماٹر کا سوس یا کیچ اپ

فوٹو: بشکریہ منوکا فیڈ

معروف کمپنیاں جو کہ ٹماٹر سے بنے سوس اور کیچ اپ وغیرہ تیار کرتی ہیں ان میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ان کے استعمال سے کنارہ کشی کریں، اگر آپ کو ٹماٹر سے بنے سوس کھانے کا دل کرے تو اسے گھر میں خود بنالیں یہ نقصان کا باعث نہیں بنے گا۔

سوڈا ڈرنکس:

فوٹو: بشکریہ منوکا فیڈ

سوڈا ڈرنکس میں شکر کی مقدار انتہائی زیادہ ہوتی ہے اگر آپ ان کا استعمال روز مرہ کی زندگی میں کر رہے ہیں تو اس سے گریز کیجیئے کیوں کہ یہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بے حد خطرناک ہے۔

پیک فوڈ:

فوٹو: بشکریہ منوکا فیڈ

عام طور پر سوپر مارکیٹ میں پیک فوڈ میں گوشت، پھل اور دیگر چیزوں کو جما کر کیمیکل لگا کر پیک کر کے بیچا جاتا ہے، ان میں سوڈیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہائی بلڈ پریشر میں کافی خطرناک سمجھی جاتی ہیں۔

Comments
Loading...