نیب کا دہرا معیار کھل کر سامنے آگیا، اصل مجرم آزاد ، مفروضوں پر گرفتار شہریوں کی جائیدادیں ضبط کھربوں کی کرپشن میں ملوث شریف خاندان پر مقدمات زیر سماعت ہونے کے باوجود ملزمان کی جائیدادیں ضبط کی نہ ہی ان کا ریکارڈ اکٹھا کیا جاسکا جو امتیازی پالیسی کا عکاس ہے

ناصر اقبال نے ذاتی عناد کی بنیاد پرشہری شہلا مشتاق ،سعید ہ بلوچ ، رضی الحسن ، لیفٹیننٹ کرنل ر اقبال ، انعام اکبر ، جمال عبدالناصر عثمانی ،خرم ہمایوں ودیگر کی جائیدادیں ضبط کرلیں
ڈی جی نیب راولپنڈی دہرا معیار اپناتے ہوئے شہریوں کیخلاف غیر قانونی اقدامات کرنے میں مصروف جس کی اجازت قانون بھی نہیں دیتا،شہریوں میں خوف وہراس
اسلام آباد (آن لائن) نیب حکام نے ملک میں احتساب کا دہرا معیار اپناتے ہوئے کھربوں روپے کی کرپشن کرنےو الے ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کی بجائے مفروضوں پر گرفتار کئے گئے شہریوں کی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کردی ہیں ہے جو کہ نیب کی امتیازی پالیسیوں کا واضح عکاس ہے۔ چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے عہدہ سنبھالتے ہی عہد کیا تھا کہ نیب حکام احتساب کے نام پر امتیازی سلوک کسی کے ساتھ روا نہیں رکھے گا اور مساوی بنیادوں پر تمام بڑے ملزمان اور چھوٹے ملزمان کے ساتھ یکساں سلوک قانون کے دائرہ میں رہ کر کیا جائے گا۔ نیب کے پاس کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث شریف خاندان کی مثال سامنے ہے جن پر مقدمات احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں لیکن ان ملزمان کی نہ جائیدادیں ضبط کی ہیں اور نہ ان کی جائیدادوں کے ریکارڈ اکٹھے کئے گئے ہیں۔ نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل ناصر اقبال نے دہرا معیار اپناتے ہوئے شہلا مشتاق زوجہ محمد نعیم طارق ،سعید ہ بلوچ ولد میر محمد خان بلوچ ، راجہ رضی الحسن ولدراجہ قربان حسن ، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ محمد اقبال ولد مہدی خان، انعام اکبر ، محترمہ عائشہ انعام ، جمال عبدالناصر عثمانی ولد عبدالمجید عثمانی خرم ہمایوں ولد نسیم ہمایوں ، عامر محی الدین ولد مبارک علی ، محمد سلیم ولد شجاع الدین ، قمر سردار ولد محمد اشرف ، احسان اللہ چیمہ ولد حیات محمد ، راجہ عبدالمناف ، ولد محمد یوسف کی جائیدادیں بھی ضبط کی جارہی ہیں ۔نیب آرڈیننس کے مطابق احتساب بیورو شہریوں کی جائیدادیں اس وقت ضبط کر سکتا ہے جب ان کےخلاف ریفرنس دائر کئے جائے لیکن متذکرہ مقدمہ کے تحت حراست میں لئے گئے شہریوں کے خلاف نہ کوئی ریفرنس دائر ہے ۔ ڈی جی نیب نے ذاتی عناد کی بنیاد پر شہریوں کیخلاف غیر قانونی اقدامات کرنے میں مصروف ہے جس کی اجازت قانون بھی نہیں دیتاہے۔ ڈی جی نیب کے ان اقدامات کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرکے چیئرمین نیب کی ساکھ کو داﺅ پر لگانا ہے ۔

Comments
Loading...