سینیٹ چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب کیلیے ووٹنگ

چیئرمین کی سیٹ پر راجہ ظفرالحق اور صادق سنجرانی جبکہ ڈپٹی کیلئے عثمان کاکڑ اور سلیم مانڈوی مدمقابل فوٹو:فائل

چیئرمین کی سیٹ پر راجہ ظفرالحق اور صادق سنجرانی جبکہ ڈپٹی کیلئے عثمان کاکڑ اور سلیم مانڈوی مدمقابل فوٹو:فائل

 اسلام آباد: سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے ایوان بالا کا اجلاس شروع ہوگیا ہے اور پولنگ جاری ہے۔

سینیٹ کے 52 نومنتخب ارکان نے رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے جس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے اجلاس جاری ہے۔ عہدے داروں کو خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کیا جارہا ہے۔ چیرمین کے عہدے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق اور اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی میں سخت مقابلہ ہے۔ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر حکمراں اتحاد کے عثمان کاکڑ اور اپوزیشن کے سلیم مانڈوی والا مدمقابل ہیں۔

پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز نے گزشتہ روز چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کا نام پیش کیا تھا۔ آج فاٹا اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے بھی اپوزیشن امیدواروں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط اور حکمراں جماعت (ن) لیگ  کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول نے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کی حمایت نہیں کریں گے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے لیے راجہ ظفرالحق جب کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے عثمان کاکڑ کو امیدوار نامزد کردیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے چاروں امیدواروں نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جو منظور ہوگئے ہیں۔

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن

سینیٹ کا ایوان 104 ارکان پر مشتمل ہے جس میں ن لیگ کے 33، پی پی پی 20، پی ٹی آئی 12، آزاد 17، ایم کیو ایم 5، نیشنل پارٹی 5، جے یو آئی 4، پشتون خوا میپ 3، جماعت اسلامی 2 اور بی این پی مینگل، فنکشنل لیگ اور اے این پی کا ایک ایک سینیٹر ہے۔ امیدواروں کو جیتنے کے لیے 53 ووٹ درکار ہیں۔

Comments
Loading...