نواز شریف اورمریم عدلیہ پردباﺅ ڈال کر مرضی کے فیصلے چاہتے ہیں ،کائرہ

گالیاں دینگے تو عدلیہ کو بولنا پڑے گا، زینب کے قاتل کو عبرت کا نشان بنایا جائے ، ایسے واقعات سے بچنے کےلئے قانون سازی کی جائے
معاشرے کو اسی طرح دباﺅ برقرر رکھنا ہو گا‘ شہبازشریف قصور جا کر ڈرامے بازی سے باز نہ آئے، صدر پیپلز پارٹی پنجاب
لاہور ( این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ نواز شریف اور انکی بیٹی عدلیہ پر دباﺅ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے لینا چاہتے ہیں لیکن اگر گالیاں دیں گے تو عدلیہ کو بولنا پڑے گا ،قصور واقعے کے ملزم کو عبرت کا نشان بنایا جائے ، آئندہ ایسے واقعات سے بچنے ،سسٹم کی کوتاہی کو مستقل دورکرنے کےلئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے اور اس کےلئے معاشرے کو اسی طرح دباﺅ برقرر رکھنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریواز گارڈن میں کالم نگار ادیب دانشور منو بھائی کے انتقال پر انکے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ منوبھائی کا خلا کوئی پورا نہیں کر سکتا، ہم ان کے بچوں کی طرح ہیں اورپارٹی بھی ان کے عشق میں گرفتار رہی ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ قصور پر معاشرے کا ردعمل آیا جو صحت مند بات ہے ،مجرم کو سات یا آٹھ مرتبہ یا کئی بار قانون کے مطابق دی جائے جبکہ سسٹم کی کوتاہی کو مستقل دورکرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ سے کوئی اور واقعہ نہ ہو سکے اس کےلئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے اور اس کے لئے معاشرے کو بھی دباﺅ برقرار رکھنا ہو گا کیونکہ جب لوگ دباﺅ ڈالتے ہیں تو ادارے کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم پھانسیوں سے بھی کم ہوں گے ۔ ایسے واقعات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش کے ساتھ کوتاہیوں کو بھی دیکھنا ہو گا اور تالیاں نہیں بجانی چاہیے اگر اس پر سیاسی جماعتیں میڈیا اور قصور کے لوگ نہ نکلتے توحکومت کی توجہ نہ پڑتی۔انہوں نے کہا کہ زینب کے والد کو بٹھا کر پریس کانفرنس اپنی نمائش کرنا تھی، وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مائیک بند کیا اس ڈرامے بازی کی کوئی ضرورت نہیں تھی اس سے پہلے 8کیسز پر بھی توجہ دینی چاہئے تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور حکومت بیان بازی پر کہوں گا کہ سپریم کورٹ کا بات کرنا احسن قدم نہیں ہے لیکن عدالتوں کو مجبورکردیں گے تو تو عدلیہ کو بولنا پڑے گا ۔نواز شریف کو بالعموم اور عدلیہ کو بالخصوص کھل کر جتنا کچھ کہا گندی گالیوں سے بد تر ہے ،اس طرح کے بیانات سے کچھ تو عدلیہ کہے گی ۔انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے ججز کو گالیاں دیں تو چھوٹی عدالتوں کے ججز دباﺅ میں فیصلے کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پنجاب سے نکالنے والوں نے نکالا ہے ،نواز شریف اور ان کی بیٹی عدلیہ پر دباو ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے لینا چاہتی ہے ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سینٹ کے چھ الیکٹرول کالج کے حصے ہیں اگر اس میں ایک یا دو حصے فعال نہ ہو تو پانچ جگہوں سے حکومت کے بعد ووٹ مل جائے گا،اگر کے پی اسمبلی ٹوٹتی ہے تو صرف چیئرمین سینیٹ کا انتخاب رکے گا۔

Comments
Loading...