معین خان پاکستان جاکر نہ کھیلنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کے انتخاب پر شدید خفا

شارجہ: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ہیڈ کوچ معین خان نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کرنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کے انتخاب پر پی سی بی سے شدید خفا ہیں۔

 معین خان پاکستان سپر لیگ میں شرکت کرنے والے ان غیر ملکی کرکٹرز کی ساکھ اور پاکستان دوستی کے دعوؤں پر سوال اٹھایا جو لاکھوں ڈالرز لے کر پی ایس ایل میں شرکت کرتے ہیں لیکن آخری وقت میں بھاری معاوضہ لینے کے باوجود پاکستان جانے سے انکار کردیتے ہیں۔

معین خان نے کہا کہ ایسے کھلاڑی پاکستان کرکٹ کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، اس صورتحال کا ذمے دار کرکٹ بورڈ ہے جو ان کھلاڑیوں کے نام ڈرافٹنگ میں ڈال دیتے ہیں۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کرکٹ سے محبت ہے اور میں اپنی لیگ کو خراب نہیں دیکھنا چاہتا اور پاکستان میں کھیلنے سے غیر ملکی کھلاڑی انکار کررہے ہیں تو اس پر پی سی بی کو یقینی طور پر سوچنا چاہیے۔

معین خان نے کہا کہ ایسے کھلاڑیوں کے نام ڈرافٹنگ میں رکھنا چاہیے تھے جو شروع سے یقین دہانی کراتے کہ وہ پاکستان جاکر کھیلیں گے۔

سابق کپتان نے شکوہ کیا کہ کیون پیٹرسن اور مورگن سمیت کئی غیر ملکی کھلاڑی پاکستان نہ جاکر لیگ کو خراب کر رہے ہیں، آئندہ ایسے لوگوں کو پاکستان سپر لیگ کے لئے مدعو نہ کیا جائے۔

معین خان نے مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق دہرے معیار پر بھی بات کی اور کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے پاکستانی اسپنرز سعید اجمل اور محمد حفیظ پر پابندی لگی لیکن سنیل نارائن مسلسل نو میچ کھیل گئے کسی امپائر یا میچ ریفری نے ان کے ایکشن پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے کوچ نے مزید کہا کہ سنیل نارائن کوئٹہ کے خلاف میچ میں مسلسل کھینچ کھینچ کر گیندیں کرا رہے تھے کسی نے ان کے ایکشن کو رپورٹ نہیں کیا، میں نے اتنی کرکٹ کھیلی ہے میری نظر میں نارائن کا بولنگ ایکشن سو فیصد مشکوک ہے۔

Comments
Loading...