Official Web

بھارت نے کشمیر میں شٹ ڈاؤن کے ذریعے تباہی چھپانے کی کوشش کی: ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں مکمل شٹ ڈاؤن کے ذریعے تباہی کو چھپانے کی کوشش کی، بھارت نےمقبوضہ کشمیر میں سخت محاصرہ کرتےہوئے اضافی فوجی تعینات کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سابق وزرائے اعلیٰ، سیاسی رہنماؤں ، کارکنوں ، وکلا اور صحافیوں کو بغیر الزام کے نظربند کیا گیا جب کہ مقبوضہ لشمیر میں انٹرنیٹ ،موبائل فون سروس معطل کردی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ فوجی محاصرے کے باعث کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں، کشمیریوں نے انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے بھارتی دعوے کو سختی سے مستردکردیا۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال اور لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا 6 میں دوسرا اجلاس ہوا۔

یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پربلایا گیا تھا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ کرکشمیر کی صورتحال پر توجہ دلائی تھی۔

کشمیر کی صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

مقبوضہ وادی میں 3 ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے جب کہ مریضوں کے لیے ادویات بھی ناپید ہوچکی ہیں، ریاستی جبر و تشدد کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

Comments
Loading...