جسم میں پروٹین کے افعال

پروٹین انسانی جسم میں خلیات کی مرمت ، بحالی اور حراروں کی فراہمی کے کام میں معاون ثابت ہوتی ہے

 انسانی جسم کا تقریباً 15 سے 20 فیصد حصہ صرف پروٹین پر ہی مشتمل ہوتا ہے جس میں سے ایک تہائی عضلات اور 1/5 حصہ کرکری ہڈیوں میں پایا جاتا ہے۔ پروٹین نہ صرف ہر خلیے میں ہے بلکہ پسینے اور صفرا (Bile) وغیرہ کے سوا جسم کی تمام رطوبتوں مثلاً خون، ہارمونز، اینزائمز اور دودھ میں لازمی جزو کے طور پر موجود ہوتی ہے۔ پروٹین ہمارے جسم کا بنیادی حصہ ہے اور جسم میں مندرجہ ذیل اہم کام انجام دیتی ہے۔

خلیات کی مرمت اور بحالی: دن بھر کے کام کاج اور کھیل کود کے ساتھ ساتھ جسم کے اندرونی افعال سے ہمارے جسم کے خلیات کی مسلسل توڑ پھوڑ ہوتی رہتی ہے اور یہ مسلسل گھستے بھی رہتے ہیں۔ خوراک میں موجود صرف پروٹین ہی ایک ایسا جزو ہے جو ان کی مرمت، تجدید اور بحالی کا کام سرانجام دیتی ہے، کوئی دوسرا جزو اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

نئے خلیات کی تعمیر : خوراک میں فقط پروٹین ہی وہ واحد جزو ہے جو مردہ اور ناکارہ ہوجانے والے خلیات کی جگہ نئے خلیات کی تعمیر کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مخصوص ایام میں پروٹین اضافی خلیات بھی تعمیر کرتی ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ایام حمل، رضاعی ایام، صحت یابی اور نشوونما کے دنوں میں پروٹین کی ضرورت بڑھ کر دگنی یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

قوت اور حرارت کی فراہمی: کاربوہائیڈریٹس کی طرح پروٹین بھی قوت و حرارت کے حرارے فراہم کرتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ قوت اور حرارت فراہم کرنا پروٹین کے مخصوص کاموں میں شمار نہیں ہوتا بلکہ اس کا فاضل کام ہوتا ہے، جس سے پروٹین کے اصل کام متاثر ہوتے ہیں۔ قوت مدافعت: پروٹین جسم میں ضد اجسام (اینٹی باڈیز) پیدا کر کے بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔ کیمیائی عمل بطور ’’پیش رو‘‘: پروٹین جس میں ہونے والے عمل تحول اور دیگر متعدد کیمیائی اعمال کے لیے نہایت ضروری ہیں اور کئی مرکبات کے لیے پیش رو (Precursor) کا کام کرتی ہے۔

توازن: خون میں موجود پروٹین جسم کے اندر سیال مادوں کے مابین توازن (فلوئیڈ بیلنس) قائم رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے سیال مادوں میں الکلی اور تیزابیت (پی ایچ) کو بھی متوازن رکھتی ہے۔

Comments
Loading...