تجارتی پالیسی جون سے پہلے متعارف کرادی جائے گی

لاہور: قومی تجارتی پالیسی 2018-23 تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کی جائیگی اور جون 2018 سے پہلے نافذ کر دی جائے گی۔

سیکریٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) انعام اللہ دھاریجو نے اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) پرمشاورتی سیشن کے موقع پر میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ پالیسی میں آزاد تجارتی معاہدے پر تھائی لینڈ اور ترکی کے ساتھ مذاکرات، پاکستان چین آزادتجارتی معاہدے مین ترامیم اور انڈونیشی تجارتی معاہدے پر توجہ دی جائے گی، جی ایس پی پلس اسکیم بین الاقوامی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے معاون ثابت ہو گی۔ انھوں نے کہاکہ وزارت ان 16 ملکوں کے گروپ پر کام کر رہی ہے جہاں پاکستانی مصنوعات برآمد کی جاسکتی ہیں۔

قبل ازیں مشاورتی سیشن سے خطاب میں انھوں نے کہاکہ حکومت ایس ٹی پی ایف2018-23 میں کاروباری برادری کی تجاویز شامل کرنے کے ذریعے برآمدات کے پائیدار بنیادوں پر فروغ کے لیے درمیانی مدتی تجارتی پالیسی فریم ورک بنانے کی کوشش کر رہی ہے ، سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا کی ہدایت پر نئی تجارتی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے مقصد سے ٹریڈ باڈیز کی رائے جانچنے کے لیے ملک بھر میں مشاورتی سیشنز کیے جا رہے ہیں۔

سیکریٹری ٹی ڈی اے پی نے امید ظاہر کی کہ ٹھوس اقدامات ملکی برآمدی شعبے کی ترقی کو مستحکم بنانے میںمعاون ثابت ہوںگے۔ انھوں نے برآمدات کو فروغ اور متنوع بنانے سے متعلق حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کاروباری برادری کو برآمدات میں کمی روکنے کے لیے پیش کردہ وزیراعظم کے 180ارب روپے کے برآمدی پیکیج کے ساتھ غیرروایتی منڈیوں کے لیے 2 فیصد اضافی ڈیوٹی ڈرابیک کی فراہمی سے آگاہ کیا۔

انھوں نے کہاکہ ایکسپوپاکستان کے دسویں ایڈیشن کی کامیابی سے ابھرتے پاکستان کے مستقبل کا امیج ابھرا، نمائش میں 70 ملکوں کے 800 سے زائد خریداروں اور درآمدکنندگان نے شرکت کی، ’لک افریقہ‘ کانفرنس کا انعقاد غیرروایتی منڈیوں کو برآمدات کے فروغ کی جانب ایک اور پیشرفت تھی۔

قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ پالیسی وزارت تجارت نعمان اسلم نے تعارفی پریزنٹیشن پیش کی۔ ڈائریکٹر جنرل ٹی ڈی اے پی لاہور میاں ریاض احمد نے دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ اس سرگرمی کو کوآرڈینیٹ کیا۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری ملک طاہر جاوید اور نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے بھی خطاب کیا، ایل سی سی آئی، ویمن چیمرلاہور اور ملتان ڈویژن، پاک چائنا جوائنٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری، ایف پی سی سی آئی لاہور، پاپام، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن، اپٹما، پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری، رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان اتھانول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی سیشن میں شرکت کی، سرگرمی 2 تکنیکی سیشنز پر مشتمل تھی، شرکا نے ٹریڈ پالیسی کی تیاری سے متعلق تجاویز اور آرا کے اظہار کا موقع دینے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

Comments
Loading...