امریکا نے 2 پاکستانیوں اور 4 افغان شہریوں پر پابندی لگادی

واشنگٹن: امریکا نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق کے شبے میں 2 پاکستانیوں اور 4 افغان شہریوں پر پابندی لگادیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد امریکی مالیاتی سسٹم سے باہر رہیں گے۔

امریکا کی جانب سے ان افراد پر لگائی جانے والی پابندی سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں مزید دوریاں پیدا ہوں گی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ماہ یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برسوں میں اسلام آباد کو احمقوں کی طرح 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے لیکن بدلے میں اسے جھوٹ اور دھوکہ ملا۔

دوسری جانب امریکا نے پاکستان کی 255 ملین ڈالرز (25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) یعنی 28 ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی بھی معطل کردی تھی۔

تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل اور معیشت کی قیمت پر لڑی، لہذا ان قربانیوں اور شہداء کے خاندانوں کے درد کا بےحسی سے مالی قدر سے موازنہ کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مشترکہ موقف اپنایا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل جنگ لڑی اور قیام امن کے لیے پاکستان نے تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار امریکا کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ خطے میں امن کے لیے مزید اقدامات کرے اور دہشت گروپوں کے خلاف کارروائیاں کرے۔

Comments
Loading...