وہ امراض جو پانی میں ڈوب جانے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں

ایمرجنسی کی صورت میں تیراکی جان بچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے سوئمنگ کا جاننا بھی اُن کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے کافی نہیں ہوتا۔

کینیڈا میں ماہرین کی جانب سے کیے گئے ایک نئے مطالعے کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض امراض ڈوبنے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ مطالعے کے لیے محققین کی ایک ٹیم نے کینیڈا کے ڈیٹا بیس سے 2007 اور 2016 کے درمیان تقریباً 4,300 ڈوبنے والوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ محققین نے پایا کہ ہر تین میں سے ایک بالغ اور 10 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو دائمی امراض لاحق تھے۔

سرفہرست وہ لوگ تھے جنہیں ischemic heart disease (قلبی مرض) اور مرگی کی شکایت تھی۔ جن خواتین کی عمر 20 سے 34 سال تھی، ان میں مرگی سے ڈوبنے کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں 23 گنا زیادہ تھا۔

 

نیو یارک سٹی کے سکول آف میڈیسن میں نیورولوجی کے پروفیسر اور ایپی لیپسی فاؤنڈیشن کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیکولین فرنچ نے کہا کہ یہ ان خطرات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں ہم لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں۔ یہ وہ خطرات ہیں جن سے ہم پوری طرح واقف ہیں۔

ایک اور ڈاکٹر اور یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کے پروفیسر، بینجمن لیوائن نے کہا کہ اگر آپ کو خشکی پر دل کا دورہ پڑتا ہے تو آپ 911 پر کال کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ کسی جھیل یا سمندر کے گہرے پانی میں ہیں اور اس دوران آپ کو دل کا دورہ پڑتا ہے یا arrhythmia (دل کی بے ترتیب دھڑکن) کا شکار ہوتے ہیں تو آپ بے ہوش ہوسکتے ہیں اور بالآخر ڈوب سکتے ہیں۔

Comments
Loading...