سیمنٹ کی بوری میں بند ہوتی تاریخ!

مبشر وسیم

اگر آپکو یہ بتایا جائے کہ اس تصویر میں موجود یہ پتھر تیس کروڑ سال پرانے ہیں تو آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس میں ہرگز بھی کوئی اچمبے کی بات نہیں کیونکہ ہمارا سیارہ زمین جو ساڑھے چار سو کروڑ سال پرانا ہے اور اس میں تیس کروڑ سالہ پرانے پتھر کا ملنا کوئی معجزہ نہیں ہے۔

لیکن کہانی ان میں سے ایک پتھر پر بنے ہوے نقش و نگار اور دوسرے کے ڈیزائن میں پوشیدہ ہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کسی نے انتہائی مہارت سے باریک اوزاروں کا استعمال کرکے ایک پتھر پر یہ دیدہ زیب نقش بنائے اور دوسرے کو گھڑ کر یہ شکل دی ہے۔ یہ پتھر اگر بہت کم تعداد میں ہوتے تو شاید ہمارا دھیان اس بات کی طرف جاتا کہ یہ کوئی انسانی ہاتھ کی کاریگری ہو لیکن ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں پتھر دنیا کے مختلف حصوں میں اور خصوصا ساحلی علاقوں میں ملتے رہتے ہیں اور ان میں دلچسپی لینے والے لوگ انہیں اکٹھا کرنے کا مشغلہ بھی کرتے ہیں۔

یہ پتھر کسی ساحلی علاقے کی بجائے چکوال کی سلسلہ کوہ نمک سے ملے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ناہموار، کٹا پھٹا،متعدد وادیوں پر مشتمل بے حد خوبصورت علاقہ 30 کروڑ سال سے لے کر 3 سو کروڑ سال پہلے تک سمندر کا حصہ رہ چکا ہے منعقش پتھر پر ستارہ مچھلی کی طرح نظر آنے والی یہ سمندری مخلوق سی ارچن ہے آپ اسے یوں سمجھیے کہ جیسے کسی ستارہ مچھلی کو ایک بلکل گول خول کے اندر قید کر دیا گیا ہو دنیا کے کئی سمندروں میں سمندری فرش پر اب بھی 5000 میٹر کی گہرائی میں سی ارچن کی تقریبا نو سو اقسام پائی جاتی ہیں اور یہ سفید پتھر اصل میں ایک پتھرایا ہوا سمندی گھونگا ہے۔

دنیا کی مختلف حصوں میں لکڑی، گھونگے، مچھلیاں اور دیگر سمندری مخلوق کے پتھراے ہوئے نمونے ملتے رہتے ہیں اب آتے ہیں اس طرف کیسے کوئی زندہ مخلوق اپنے پورے ڈیزائن کے ساتھ پتھر میں تبدیل ہو کر محفوظ ہو جاتی ہے
علم ارضیات میں اس عمل کو پیٹری فیکیشن کہتے ہیں
جس کا ماخذ یونانی زبان کا لفظ پیٹرا ہے جس کے لفظی معنی پتھر کے ہیں یعنی یہ بنیادی طور پر زندہ چیزوں کے پتھرائے جانے کا انتہائی پیچیدہ اور بہت طویل وقت کا متقاضی عمل ہے۔

مخصوص حالات کے تحت پانی میں موجود معدنیات آہستہ آہستہ زندہ چیز کو سانچہ مان کر ہڈیوں اور پٹھوں کی جگہ لینے لگتی ہیں اور ان میں پوری طرح بھر کےاس زندہ چیز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں یوں سمجھیے جیسے ہم کسی ڈیزائن والے سانچے میں پگھلا ہوا لوہا ڈال کر اسے اپنے مطلوبہ پیالے کی شکل دے دیتے ہیں۔

معدنیات بھرنے کا یہ عمل پری مینرلآئزیشن گہلاتا ہے اور اس میں بہت حد تک اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کچھ نامیاتی مادے جن پر زندہ جسم مشتمل ہوتا ہے ابھی بھی باقی رہیں گے۔

یہاں آتشفشانی مادے کا بھی بہت اہم کردار ہے آتش فشاں کے نتیجے میں پہاڑ اپنے اندر سے جو مادہ اگلتا ہے اس میں سلیکا کی کافی مقدار ہوتی ہے جو سمندری پانی میں حل ہو کر نہ صرف نامیاتی مادے کی جگہ لیتی ہے بلکہ اس میں موجود آکسیجن کی مقدار کو بتدریج کم کرتی ہے اور سمندر میں موجود فنجائی سے بھی اسے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

سیلیکا کے علاوہ سمندر کی تہہ میں موجود پارائٹ مادہ بھی ہڈیوں اور پٹھوں کی جگہ لے کر ان کی شکل اختیار کرتا ہے اور اس طرح کروڑوں سالوں میں کوی بھی زندہ چیز اپنی اصل شکل میں پتھر بن کر محفوظ ہو جاتی ہے

اپنی اور زمین ماں کی کہانی سناتے یہ منقش پتھر خطہ پوٹھوار میں کروڑوں سال پہلے موجود سمندر کی تہہ میں بسنے والی مخلوقات میں سے صرف دو ہیں اور خصوصا یہاں چکوال میں کہیں یہ سمندری مخلوق کہیں ڈاینوسارس کی باقیات کہیں کٹاس راج کہیں نندنہ قلعہ جیسے کچھ قصے ابھی تک ہمارے سامنے آے ہیں اور نجانے کتنے ہی ان پہاڑوں میں پوشیدہ ہیں گو کہ معاشی مجبوریوں میں جکڑا اور بلخصوص پچھلے بہتر سال کی تربیت کے نتیجے میں بلکل مختلف ترجیحات کا حامل پاکستانی انہیں سننے سے بلکل محروم ہے۔

پنجاب میں محترم بزدار صاحب کی طرف سے جن مزید چودہ سیمنٹ فیکٹریوں کی منظوری دی گئی تھی ان میں سے ایک اس علاقے میں بھی لگے گی اور شائد بہت جلد وہ پہاڑوں میں پوشیدہ ایسی کئی کروڑ ہا سال پرانی کہانیوں کو پیس کر سیمنٹ میں تبدیل کر دے اس سے قبل اسی علاقے میں موجود کٹاس راج کا پانچ ہزار سال پرانا چشمہ اور ارد گرد کی آبادیوں کے حصے کا سارا زیر زمین پانی ان سیمنٹ فیکٹریوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے جن پر ہم اگلی اقساط میں تفصیل سے بات کریں گے.

Comments
Loading...