ہم سیاستدانوں کا اختلاف محض سیاسی ہے، ہم اپنے عوام کو روٹی پانی پوری نہیں کر سکتے، خواجہ سعد رفیق

ملک کو بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ ایک دوسرے سے گھتم گتھا ہونا وارا نہیں کھاتا، وزیر ریلوے
سیاست کرو‘ تنقید کرو لیکن ذاتیات نہ کی جائے، ہمیں ایک دوسرے کے دست و گریبان نہیں ہونا، ہماری آپس میں کوئی دشمنی نہیں کوئی دشمن سمجھتا ہے بھلے سمجھے ہم کسی کو دشمن نہیں سمجھتے، تقریب سے خطاب
#/h#
لاہور (آن لائن) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم سیاستدانوں کا اختلاف محض سیاسی ہے۔ ہم اپنے عوام کو روٹی پانی پوری نہیں کر سکتے ملک کو بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ ایک دوسرے سے گھتم گتھا ہونا وارا نہیں کھاتا۔ سیاست کرو‘ تنقید کرو لیکن ذاتیات نہ کی جائے۔ ہمیں ایک دوسرے کے دست و گریبان نہیں ہونا۔ ہماری آپس میں کوئی دشمنی نہیں کوئی دشمن سمجھتا ہے بھلے سمجھے ہم کسی کو دشمن نہیں سمجھتے۔ مخالف ضرور سمجھتے ہین۔ دشمن سمجھ کر آگے نہیں بڑھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور مین گورنمنٹ بوائز سکول گوہاوا کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہ اکہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہے ختم نہیں ہوئے۔ ابھی موجود ہیں مقابلہ کرنا ہے۔ عوام حکومت‘ سول حکومت سیاسی جماعتوں اور میڈیا سب نے مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ اکیلے کوئی کامیاب نہیں ہوگا۔ جن کے دل میں مم جوئی کی بات آتی ہے ۔ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دانش مند لوگ ہر جگہ موجود ہیں ہمارے مخالفین میں بھی موجود ہیں انہوں نے کہا کہ دانشمند لوگ عقل کے ساتھ معاملات کو ٹھیک کریں۔ خدا کا شکر ہے۔ شوشے چھوڑنے بند کئے جائیں ہم اپنا اپنا کام کریں۔ گلی گلی میں جاکر محنت کی۔ دوائیاں ڈالیں۔ ایک ایک گڑھے کو ٹھیک کرایا۔ ایم این اے ‘ ایم پی اے ‘ کونسلر ‘ زیراعلیٰ سب نے مل کر ڈینگی کے خلاف مہم میں حصہ لیا۔ اللہ نے ہمیں فتح دی۔ عمران خان جو نئے پاکستان کی بات کرتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ سارا دن گالیاں نکالتا ہے اس صوبے میں جس نے تمہیں ووٹ دیئے جس نے تمہیں حکومت بنا کر دی ۔ عمران پشاور سے بھاگ گیا۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکل کے وقت پر آگے کھڑا ہو۔ دم دبا کر بھاگنے والے کو گیڈر کہا جاتا ہے صوبے میں ڈینگی آنے پر نتھیاگلی کے پہاڑوں پر چڑھ گیا۔ جب ججز کی بہالی کی تحریک چلی تو نواز شریف آگے آگے ۔ ہم سب ورکرز پیچھے پیچھے تھے عمران خان جاکر اسلام آباد میں چھپ گیا۔ عمران بزدل ہر بار بھاگ جاتا ہے۔ اس کے بعد جب وقت گزر جاتا ہے نکل آتاہے ۔ آج پولیو پورے ملک میں کہیں نہیں ہے صرف کے پی کے میں ہے۔ وہاں سے پولوی پورے پاکستان میں آتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے پشاور میں چوہے بڑھ گئے وہ انسانوں کو کاٹنے لگ گئے آدم خور چوہون کا مقابلہ عمران خان نہیں کر سکا۔ کہا ہے شیروں کا مقابلہ کروں گا۔ یہ عمران خان کے الزامات ہیں جس کے بعد وہ لعنت ملامت کرتے ہیں۔ کیا کسی پر لعنت ڈالنا اچھی بات ہے ہم لعنت نہیں ڈالیں گے۔ کیونکہ لعنت ڈالنے والا گناہ کرتا ہے عمران اپنی اصلاح کرو۔اتنے عمر رسیدہ ہوگئے ہو اب بڑوں گالی حرکتیں بھی کرو۔ اگر عمران خان کہتا ہے کہ وزیراعظم بناﺅ اگر نہیں بن رہے تو ہمارا کیا قصور ہے۔ ووٹوں سے بنو گے ۔ سازش سے نہ بننے کی کوشش کرو۔ گالیاں دیت اہے بدتمیزی کرتا ہے۔ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہے۔ آتا نہیں ہے وہان سے تنخواہ ساری لیتا ہے۔ میں کوئی تنخواہ نہیں لیتا ۔ خدا واسطے کام کرتا ہوں۔ میرا بھائی بھی کوئی تنخواہ نہیںلیتا۔ عمران خان غیر حاضر بھی رہتا ہے۔ وہاں کے سارے بھتے بھی وصول کرتا ہے اور اسی پارلیمنٹ کو گالیاں بھی دیتا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں ہے کیا فیصلوں سے جبر سے الزام لگا کر سیاسی قیادت کو سیاست سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیا جاسکتا تو بھٹو کی پھانسی پیپلزپارٹی کی سیاست کوختم کر سکتی تھی مگر اس پھانسی نے بھٹو کو زندہ کردیا۔ بھلا ہو زرداری کا انہوں نے آکر سوا ستیاناس کردیا تو پیپلزپارٹی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے آکر پیپلزپارٹی کو سیاسی جماعتوں کو کچھ اور بنا دیا اور ہارس ٹریڈنگ کا اڈا بنادیا۔ آج کل بھی سینیٹ کے الیکشن کیلئے ممبروں کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں پراپیگنڈا پر کان نہ دھریں ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود روز جھوٹ بولتا تھا آخر اپنے جال میں پھنس گیا۔ چیف جسٹس صاحب سے نوٹس لینے کا کہتا تھا آخر انوہں نے نوٹس لے لیا قانون کی گرفت میں آگیا۔ عجیب لوگ ہیں ایک معصوم بچی کے قاتل کو پکڑو تو بھی انہیں پسند نہیں آتا۔ معصوم زینب کا قاتل پکڑا جائے انہیں پھند نہیں آتا مردان کی اسماءکے قاتل عمران نے اب تک نہیں پکڑے ۔ کے پی کے کی پولیس کی باتیں کرتے ہو ہم ایک دوسرے پر اشارہ کرن انہیں چاہتے۔ مگر عمران خان باز ہی نہیں آتا۔ عمران خان کو ہمارا کوئی کام پسند ہی نہیں آتا۔ اور تمہیں کوئی کام کرنا نہیں آتا۔ عمران پشاور کو لاہور جیسا بناﺅ۔ زرداری کراچی کو لاہور جیسا بناﺅ۔ کیوں نہیں بناتے۔ آج لاہور کراچی سے کہیں آگے پہنچ گیا اور زرداری نے کراچی کوکباڑ خانہ بنا دیا۔ کھنڈر بنا دیا۔ سندھ کا بیڑا غرق کردیا۔ ان لوگوں کو شرم بھی نہیں آتی۔ کھنڈرات پر کھڑے ہوکر کہتے ہیں جیسا یہ ہے ویسا پاکستان کو بنائیں گے۔ دھیلے کا کام نہیں کرتے۔ ہر وقت آپ لوگ خرابی کرتے ہیں۔ جس کے بعد آپ چاہتے ہیں سیاست میں زندہ رہیں۔ لوگ بے وقوف نہیں ہیں۔ عوام پر آپ کے میڈیا کے پروگرام کا اثر نہیں پڑے گا۔ ہمارا ووٹر ہمارے ساتھ ہے وہ ترقی کو دیکھتا ہے کراچی کا امن واپس آگیا ہے۔ بلوچستان میں لوگ پہاڑوں سے اتر رہے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کا جن آخر کار بوتل میں بند ہوگیا۔ سی این جی کے اسٹیشن کھل گئے۔ بیدیاں روڈ پر لیور کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر پورے ایشیاءمیں سب سے بہترین ہسپتلا ہے ہماری حکومت نے دنیا جہاں کے کام کئے ہیں پھر عدالتوں میں درخواستیں لے کر پہنچ جاتے ہیں عدالتوں پر سیاست چمکانا شروع کرتے ہیں۔ عدلات اور افواج پاکستان کا ترجمان بن جاتے ہیں عمران کیا آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہو کہ نواز شریف کو ایک ماہ بعد سزا ہوجائے گی کیا ہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں دشمن نہیں ہیں مخالف ہیں کوئی جائیداد شیک نہیں ہے۔ آپ کا راستہ الگ ہمارا الگ منزل پاکستان ایک ہے۔ اگر اس طرح سوچیں تو زبان کو کنٹرول ہوگا۔ گالیاں نہیں نکالیں گے’ لعن طعن نہیں کریں گے۔ طاہر القادری کینیڈا سے سال میں ایک بار پاکستان اتےہ یں مال روڈ اپوزیسن جلسہ اس لئے ناکام ہوا کہ لوگوں کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ لوگ سمجھ گئے کہ یہ سارے سیاسی مداری ہیں ۔ شریعت کے نفاذ کا مطلبہ ہم سب کی خواہش ہے۔ سستی سیاست اور الیکشن کا ووٹ لینے کیلئے لوگوں کو کافر قرار دیا جاتا ہے اس طرح بھی کبھی ملک چلتے ہین۔ نفرتین بڑھانا دانشمندی کی بات نہیں اس سے ملک آگے نہیں بڑھتے۔ 2018 ءکا الیکشن دور نہیں وقت سے پہلے الیکشن کرانے کی کوشش کی گئی۔ کوئی کہتا تھا کہ کیئر ٹیکر لے آﺅ۔ ان کی چھٹی کرادو۔ آٹھ سال جلا وطن کیا آج نواز شریف وزیراعظم نہیں ہے مگر پہلے سے زیادہ مقبول ہے۔ ہزاروں لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے کھڑے ہوجاتے ہین۔ جو مخالفین نواز شریف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں الٹا پڑ جاتی ہے اللہ کے خوف والا آدمی ہے پاکستان سے عشق کرتا ہے پاکستان کو ترقی دینا چاہتا ہے ہماری کسی سے کوئی محاذ آرائی نہیں ہے ہم نے کسی سے نہیں لڑنا۔ پاکستان کے ادارے ہمارے لئے معتبر ہیں عدلیہ یا افواج ہوں۔ ملک کی لئے لازم ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں ان کی مضبوطی کیلئے ہم نے کردار ادا کیا۔ ہم نے جیلیں کاٹیں عدلیہ کی آزادی کیلےءآج ہمین سبق پڑھایا جاتا ہے۔ لانگ مارچ کیا جیلیں کاٹیں اگر ہمیں انصاف نہیں ملے گاتو ہم منہ پر پٹی نہیں باندھ سکتے۔ ۔ (عابد شاہ)
#/s#

Comments
Loading...