بے مثال فنکار معین اختر کو بچھڑے 7 برس بیت گئے

داکاری، نقالی اور میزبانی میں مضبوط گرفت رکھنے والے بے مثال فنکار معین اختر کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 7 برس بیت گئے۔

معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور بچپن سے ہی اداکاری کے جوہر دکھانے کے شوقین تھے۔

انہوں نے 13 برس کی عمر میں اپنے فنی کیرئر کا آغاز کیا اور پہلی مرتبہ شیکسپیئر کا ’دی مرچینٹ آف وینس‘ اسٹیج ڈرامہ کیا۔

معین اختر نے 16 برس کی عمر میں ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھا جس کے بعد فنکاری کے ایسے جوہر دکھائے کے سب کو دلوں میں گھر لیا۔

معین اختر نے ڈرامہ سیریل ’روزی‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا جس میں انہوں نے ایک خاتون کا کردار ادا کیا تھا۔

ان کے متعدد مقبول ڈراموں میں ففٹی ففٹی، ہالف پلیٹ، فیملی 93 شامل ہیں جن میں یہ انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ بھی کام کرچکے ہیں۔

معین اختر نے یوں تو زیادہ تر مزاحیہ کردار ادا کیے ہیں لیکن سنجیدہ کردار میں بھی انہوں نے اپنا لوہا منوایا۔

اسٹیج شو میں کامیڈی کرنا ہو یا نقالی کرنا، غرض ہر فن میں معین اختر ماہر تھے یہی وجہ ہے کہ دنیا انہیں لیجنڈری اداکار کے نام سے یاد کرتی ہے۔

معین اختر کو اردو سمیت انگریزی، سندھی، پنجابی، میمنی، پشتو اور گجراتی زبانوں پر  عبور حاصل تھا جس کے جوہر وہ اپنے ڈائلاگ کے ذریعے دکھاتے بھی تھے۔

معین اختر اداکاری اور کامیڈی کرنے کے ساتھ میزبانی بھی بہترین طور پر کرتے تھے۔

انہوں نے پاکستان سمیت بھارت میں بھی مقبولیت حاصل کی اور بھارتی لیجنڈ اداکار دلیپ کمار اور گلوکارہ لتا منگیشکر سمیت اداکارہ مادھوری ڈکشت کے سامنے اسٹیج پرفارمنس کا بھی موقع ملا۔

معین اختر کو 14 اگست 1996 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے فخر پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا جب کہ 2011 میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا ۔

لیجنڈری اداکار معین اختر 22 اپریل کو حرکت قلب بند ہونے کے باعث اپنے مداحوں سے بچھڑ گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔

Comments
Loading...