شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی 65 برس بعد تاریخی ملاقات

سیئول: شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہوں نے 65 برس بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر تاریخ رقم کردی۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے پیدل جنوبی کوریا کی سرحد عبور کی اور امن کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

کم جونگ ان اور جنوبی کوریا کے سربراہ مون جے ان کی ملاقات سرحدی علاقے پنمن جم میں ہوئی۔

اس تاریخی موقع پر والہانہ استقبال نے شمالی کوریائی وفد کا دل جیت لیا۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات لکھے کہ ‘اب ایک نئی تاریخ شروع ہورہی ہے اور امن کا دور شروع ہو رہا ہے’۔

دوسریا جانب جنوبی کوریا کے صدر نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں جرات مندانہ امن سمجھوتہ طے پا جائے گا، جو خطے کے لوگوں اور امن کے خواہشمندوں کے لیے تحفہ ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملاقات میں اہم معاہدوں کی امید ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہوں کے درمیان ملاقات میں جنگ بندی کو امن معاہدے میں بدلنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملات پر بات ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کا خیر مقدم

امریکا نے شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات مستقبل میں امن کے لیے معاون ثابت ہوگی۔

وائٹ ہاؤس سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے درمیان باہمی تعاون کو سراہتا ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا سربراہان کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ہفتے 21 اپریل کو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے اور میزائل ٹیسٹ سائٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی یا میزائل تجربات کی اب ضرورت نہیں اور ایٹمی ہتھیاروں کی تجربات کے لیے قائم تنصیبات کو بند کیا جارہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب شمالی کوریا دنیا بھر میں ایٹمی تجربات ختم کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ بنے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کورین سربراہ کے درمیان بھی رواں برس جون میں ملاقات متوقع ہے، تاہم اس ملاقات کا مقام اور دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہیں۔

سی آئی اے کے سربراہ اور امریکا کے نامزد وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی گذشتہ ماہ شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا، جس کا مقصد ٹرمپ اور کم جونگ ان کی متوقع ملاقات سے پہلے گراؤنڈ ورک کرنا تھا۔

Comments
Loading...