کراچی میں پانی و بجلی کی عدم فراہمی پر جماعت اسلامی کی ہڑتال اور دھرنے

کراچی: شہر قائد میں پانی و بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے پرامن ہڑتال کی کال کے بعد  شہر کے مختلف علاقوں میں کارکنوں نے دھرنے دے رکھے ہیں۔

جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ملیر 15، کالا بورڈ، شاہ فیصل نمبر 2، اورنگی ٹاؤن، دہلی کالونی اور لیاری میں ٹائر جلا کر سڑک بند کردی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی۔

دھرنے کے باعث ملیر 15 کے قریب ٹریفک جام ہوگیا اور اسکول و کالج جانے والے طلبہ اور دفاتر جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب لیاری میں جماعت اسلامی کی ہڑتال کے باعث متعدد نجی اسکول بند کردیئے گئے۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی شارع فیصل پر موجود ہے۔

یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے 27 اپریل کو کراچی میں پانی کی عدم فراہمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ  جب تک کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حال نہیں ہوجاتا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا معاملہ

واضح رہے کہ گرمی بڑھتے ہی کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا، جس سے شہری شدید اذیت سے دوچار ہیں۔

کے الیکٹرک نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ملبہ سوئی سدرن گیس کمپنی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اسے مناسب گیس فراہم نہیں کی جارہی، جبکہ سوئی سدرن کو شکوہ تھا کہ انہیں واجبات ادا نہیں کیے گئے۔

شہر کے صنعتکاروں نے بھی بجلی فراہم نہ ہونے پر انڈسٹریز کو تالا لگانے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

ایک طرف میئر کراچی وسیم اختر کو اختیارات نہ ملنے کا شکوہ ہے، تو دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی بجلی بحران کے معاملے پر وفاق پر کافی گرم نظر آتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ وفاق کے پاس اگر بجلی بحران حل کرنے کی صلاحیتیں نہیں تو وہ اس کا اختیار سندھ حکومت کو دے دے۔

جس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس بحران کا نوٹس لے کر کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا خصوصی اجلاس طلب کیا، جس کے دوران کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کے معاملے پر غور کیا گیا جب کہ وزیراعظم کو لوڈ شیڈنگ پر تفصیلی بریفننگ بھی دی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم نے خوشخبری سنائی کہ ’کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے اور سوئی سدرن آج سےکے الیکٹرک کو مکمل گیس فراہم کرے گی‘۔

تاہم  اس اعلان کے باجود شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

Comments
Loading...